لیوان ضلع بنوں میں واقع پاکستان کے اہم ترین آثارِ قدیمہ کے مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مقام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بنوں میں تقریباً 4000 سے 2000 قبل مسیح کے دوران منظم آبادیاں موجود تھیں، جہاں دستکاری، تجارت اور صنعت نے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ لیوان اس زمانے میں پتھریلے اوزاروں کی تیاری کا ایک بڑا صنعتی مرکز تھا۔ یہاں منتخب خام پتھروں سے اعلیٰ معیار کے اوزار بڑی تعداد میں تیار کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ نیم قیمتی پتھروں کے موتیوں کی تیاری اور چاک پر معیاری مٹی کے برتن بنانے کی صنعت بھی یہاں موجود تھی، جو اس دور میں ہنرمندی اور منظم پیداوار کی علامت تھی۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق لیوان کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ مقام ثابت کرتا ہے کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے عروج سے ہزاروں سال پہلے بنوں میں منظم معاشرے، خصوصی دستکاریاں اور دور دراز علاقوں سے تجارتی روابط قائم تھے۔ یہ مقام بنوں میں موجود آکرہ سے بھی پرانا بتایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کو آج بھی یہاں موتیاں اور برتن وغیرہ ملتے رہتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کو اس تاریخی مقام کو ترجیح دینی چاہئے اس تاریخی اور اہم ورثے کو محفوظ بنانے اور سیر کے قابل بنانے کیلئے اقدامات اگر کیے جائے تو بنوں بھی سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔