پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا، اور اب اپنے چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ 9 اکتوبر کو مارچ پشاور پہنچ گیا، جو اب تک کا سب سے بڑا پڑاؤ ہے۔ اس رپورٹ میں 9 اکتوبر کے اہم واقعات، پارٹی کے بیانات اور آئندہ شیڈول کا مکمل احوال پیش کیا گیا ہے۔
9 اکتوبر: مارچ پشاور پہنچ گیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ جمعرات، 9 اکتوبر کی شام پشاور کے حیات آباد ٹول پلازہ پر پہنچا۔ پی ٹی آئی کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری ویڈیو میں وزیراعلیٰ آفریدی کو "عمران خان کو رہا کرو" کے نعرے لگاتے دیکھا گیا، جبکہ کارکنوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ساتھ دیا۔
پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ جب تک قافلہ صوابی پہنچے گا، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ بن چکا ہوگا۔
مارچ کے مطالبات کیا ہیں؟
پی ٹی آئی کے مطابق مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی عمران خان کی رہائی، ان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات کی سماعتوں میں تیزی، ان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے خدشات کا ازالہ، اور ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
پارٹی قیادت کا مؤقف: "کوئی سمجھوتہ نہیں"
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گی جس سے اصولوں پر سمجھوتہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں قافلے مارچ میں شامل ہوں گے۔
"حتمی لائحہ عمل" کا اعلان کہاں ہوگا؟
وزیراعلیٰ آفریدی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی اپنا "حتمی منصوبہ" صوابی پہنچنے پر پیش کرے گی۔ مبصرین کی رائے میں خیبر پختونخوا کے اندر مارچ کی رفتار جان بوجھ کر سست رکھی جا رہی ہے، تاکہ وفاق کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کیا جا سکے اور مذاکرات کی کوئی نئی راہ نکل سکے۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی رابطے میں ہے تاکہ حکومت کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہو سکے۔
حکومت کا مؤقف: مارچ اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکے گا
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ آفریدی کو ٹھہرایا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی پی ٹی آئی سے مارچ ختم کر کے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کر چکے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی اصل وجہ وفاقی حکومت کا یہ مطالبہ تھا کہ صوبائی انتظامیہ خیبر پختونخوا میں یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے انسدادِ دہشتگردی اقدامات کی ذمہ داری قبول کرے۔
اب تک کا سفر: ایک نظر میں
| تاریخ | پیش رفت |
|---|---|
| 4 اکتوبر | لکی مروت کے گنڈی چوک سے آغاز، گنڈاپور کا قافلہ راستہ بند ہونے پر واپس |
| 5 اکتوبر | کرک پہنچے، مقامی کارکن شامل |
| 6 اکتوبر | کوہٹ سے روانگی، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے شامل، رات متنی میں قیام |
| 7 اکتوبر | پشاور کے بڈھ بیڑ سے روانگی، رات چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام |
| 8–9 اکتوبر | چارسدہ سے پشاور، حیات آباد ٹول پلازہ پر پہنچ کر شام کو قیام |
| 10 اکتوبر (متوقع) | مردان کی جانب روانگی |
| 11 اکتوبر (متوقع) | صوابی پہنچنا، حتمی لائحہ عمل کا اعلان |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
9 اکتوبر کو مارچ کہاں پہنچا؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ 9 اکتوبر کی شام پشاور کے حیات آباد ٹول پلازہ پر پہنچا۔
کیا مارچ اسلام آباد تک پہنچے گا؟
حکومت نے واضح کیا ہے کہ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پارٹی کی حتمی حکمت عملی کا اعلان صوابی پہنچنے پر متوقع ہے۔
پارٹی نے مذاکرات کی ناکامی کی کیا وجہ بتائی؟
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق تعطل کی بڑی وجہ وفاقی حکومت کا یہ مطالبہ تھا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں شروع کیے گئے انسدادِ دہشتگردی اقدامات کی ذمہ داری خود اٹھائے۔
کیا جے یو آئی (ف) اس معاملے میں کوئی کردار ادا کر رہی ہے؟
رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے میں ہے تاکہ حکومت کے ساتھ بات چیت کی نئی راہ نکالی جا سکے، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
نوٹ: یہ ایک تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ہے۔ یہ رپورٹ 9 اکتوبر تک دستیاب معلومات پر مبنی ہے، اور اس کے بعد حالات میں تبدیلی ممکن ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ تازہ ترین پیش رفت کے لیے معتبر خبر رساں اداروں کی رپورٹس ضرور دیکھیں۔