حماس دسمبر 1987 میں وجود میں آئی۔ اس تحریر میں دو سوالوں کا جواب تلاش کیا گیا ہے: حماس کے حملوں میں اب تک کتنے اسرائیلی مارے گئے — فوجی اور عام شہری الگ الگ شمار کرتے ہوئے — اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کتنے فلسطینی جان سے گئے، انہیں بھی شہری اور جنگجو کی تفریق کے ساتھ۔ یہ اعداد و شمار خود ایک متنازعہ معاملہ ہیں، اس لیے ہر عدد کے ساتھ اس کا ماخذ اور اس کی کمزوری بھی بتائی گئی ہے۔ جہاں کسی قابلِ اعتماد ذریعے نے ہلاکتوں کو شہری اور جنگجو میں تقسیم نہیں کیا، وہاں یہ بات صاف لفظوں میں لکھ دی گئی ہے، اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
حصہ اول: حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی
چند بڑے حملے (1989 تا 2014)
| واقعہ | تاریخ | ہلاکتیں | تفصیل |
|---|---|---|---|
| ایوی سسپورٹاس اور ایلان سعدون کا اغوا اور قتل | 1989 | 2 | دونوں فوجی تھے |
| افولا بس بم دھماکہ | اپریل 1994 | 8 | عام شہری |
| حدیرہ بس اسٹیشن دھماکہ | اپریل 1994 | 5 | عام شہری |
| نخشون واکسمین کا اغوا (ایک کمانڈو سمیت) | اکتوبر 1994 | 2 | دونوں فوجی تھے |
| تل ابیب، بس نمبر 5 دھماکہ | اکتوبر 1994 | 22 | بس میں سوار شہری |
| یروشلم اور تل ابیب میں دھماکے | فروری تا مارچ 1996 | 47 سے 59 (ذرائع مختلف بتاتے ہیں) | شہری/فوجی تفریق دستیاب نہیں |
| شیرون مال، نیتانیا | مئی 2001 | 5 | عوامی مقام پر حملہ |
| ڈولفینیریم، تل ابیب | جون 2001 | 21 | عوامی مقام پر حملہ |
| سبارو ریسٹورنٹ، یروشلم | اگست 2001 | 15 | عوامی مقام پر حملہ |
| پارک ہوٹل، نیتانیا (پاس اوور بم دھماکہ) | مارچ 2002 | 28 سے 30 | مذہبی تقریب، زیادہ تر بزرگ شہری شامل |
| ہیبرو یونیورسٹی کیفے ٹیریا دھماکہ | جولائی 2002 | 9 | 4 اسرائیلی، 5 غیر ملکی، عوامی مقام |
| گیلاد شالیت کا اغوا | جون 2006 | 2 | دونوں فوجی تھے |
| تین نوجوان لڑکوں کا اغوا | جون 2014 | 3 | عام شہری، عمریں 16، 16 اور 19 سال |
یہ فہرست مکمل نہیں۔ اسرائیل کے خفیہ ادارے شن بیت کا کہنا ہے کہ 2000 سے 2008 کے دوران حماس کے مختلف حملوں میں کل 457 افراد مارے گئے، مگر اتنے عرصے کے لیے الگ سے شہری اور فوجی کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
غزہ کی جنگوں میں اسرائیلی ہلاکتیں
| جنگ | کل اسرائیلی ہلاکتیں | شہری | فوجی |
|---|---|---|---|
| 2008–09 (کاسٹ لیڈ) | 13 | 3 | 10 |
| 2012 (پلر آف ڈیفنس) | 6 | 4 | 2 |
| 2014 (پروٹیکٹو ایج) | 73 سے 74 | 6 | 67 سے 68 |
| 2021 (گیارہ روزہ جنگ) | 13 سے 15 | 12 سے 14 | 1 |
یاد رہے کہ ان تمام جنگوں میں اسلامی جہاد جیسے غزہ کے دیگر مسلح گروہ بھی حماس کے ساتھ راکٹ داغ رہے تھے، اس لیے یہ پوری تعداد صرف حماس سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔
7 اکتوبر 2023
حماس کی قیادت میں ہونے والے اس حملے میں لگ بھگ 1,200 اسرائیلی مارے گئے (AFP نے سرکاری عدد 1,219 بتایا ہے)۔ ان میں کم از کم 815 عام شہری تھے۔ کل تعداد میں سے شہریوں کو نکال دیا جائے تو تقریباً 380 سیکیورٹی اہلکار — فوجی، پولیس وغیرہ — رہ جاتے ہیں، یہ عدد خاص طور پر اس تحریر کے لیے نکالا گیا ہے۔ دوسرے ذرائع کے مطابق یہ تعداد 329 سے 373 کے درمیان کہیں بنتی ہے۔
اکیلے نووا میوزک فیسٹیول میں 350 سے 364 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کبوتز بیری میں کم از کم 97 لوگ مارے گئے۔ اس دن 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔ اکتوبر 2026 کی برسی تک یہ تمام 251 یرغمالی — زندہ یا مردہ — واپس آ چکے تھے؛ آخری باقی لاش، ران گوِیلی کی، 26 جنوری 2026 کو ملی اور واپس بھیجی گئی، جس سے یہ باب مکمل ہوا۔
بعد میں ہونے والی جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں
27 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی غزہ کی زمینی جنگ میں اکتوبر 2025 تک 470 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے تھے۔ اس میں وہ 7 فوجی شامل نہیں جو اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد مارے گئے۔
اگر غزہ، لبنان اور مغربی کنارے — تمام محاذوں — کو ملا لیا جائے تو یہ تعداد اکتوبر 2025 تک 918، فروری 2026 تک 925، اور AFP کے مطابق ستمبر 2026 تک 970 تک جا پہنچی۔ AFP نے یہ آخری عدد خاص طور پر غزہ سے منسوب کیا ہے، مگر چونکہ پہلے جمع کیے گئے اعداد تمام محاذوں کے تھے، اس لیے امکان ہے کہ یہ بھی اسی طرح ہو۔
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کے اندر راکٹوں یا حزب اللہ کے حملوں سے ہونے والی علیحدہ شہری ہلاکتیں اس تحریر کا حصہ نہیں۔
خلاصہ: حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی (کم از کم تخمینہ)
| زمرہ | تعداد | وضاحت |
|---|---|---|
| شہری، 7 اکتوبر سے پہلے (تمام تاریخ میں) | 650+ | IDF کا عدد |
| شہری، 7 اکتوبر 2023 | ~815 | — |
| سیکیورٹی اہلکار، 7 اکتوبر 2023 | ~380 | اس تحریر کے لیے خاص طور پر نکالا گیا |
| فوجی، غزہ زمینی جنگ (اکتوبر 2025 تک) | 470 | — |
| فوجی، ابتدائی منتخب واقعات (1989–2021) | ~85 | اوپر دی گئی جدولوں سے نکالا گیا |
| مجموعی تعداد | ~2,400+ | اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے |
یاد رہے کہ 2023 سے پہلے کے شہری ہلاکتوں کے عدد میں 1990 سے 2021 تک کی تمام ہلاکتیں خود بخود شامل سمجھی جاتی ہیں، اس لیے انہیں الگ سے نہیں جوڑا گیا۔ اسی طرح 2000 سے 2008 کی فوجی ہلاکتیں اور اکتوبر 2025 کے بعد کی ہلاکتیں بھی اس مجموعی تعداد میں شامل نہیں کی گئیں۔
حصہ دوم: اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینی
7 اکتوبر 2023 سے پہلے کی غزہ جنگیں
| جنگ | کل فلسطینی ہلاکتیں | شہری/جنگجو کی تقسیم |
|---|---|---|
| 2008–09 | 1,166 سے 1,417 (AFP: 1,400) | PCHR کے مطابق 926 شہری تھے؛ 255 سے 265 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا عدد متنازعہ ہے |
| 2012 | 165 سے 177 | UN OCHA: 99 شہری (33 بچے، 13 خواتین)؛ جنگجو تقریباً 30 سے 60 |
| 2014 | 2,251 | ایک اسرائیلی بلاگ کے تخمینے کے مطابق لگ بھگ 70 فیصد شہری تھے |
| 2021 | 248 سے 260 | 66 بچے شامل؛ باقی تقسیم متنازعہ ہے |
یہ صرف غزہ کی بڑی جنگوں کا احاطہ کرتی ہے۔ مغربی کنارے یا دیگر علاقوں میں ہونے والی ہلاکتیں اس میں شامل نہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 13 ستمبر 2026 تک کم از کم 73,783 فلسطینی مارے جا چکے تھے، جبکہ 174,738 زخمی ہوئے۔ فلسطینی نیوز اینڈ انفو ایجنسی (WAFA) نے طبی ذرائع کے حوالے سے 13 اکتوبر 2026 تک ایک نیا عدد جاری کیا — 74,389 ہلاکتیں اور 175,423 زخمی، جن میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد مرنے والے 1,498 افراد بھی شامل ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت اپنے اعداد میں شہری اور جنگجو کی تفریق نہیں کرتی۔ اقوامِ متحدہ انہیں قابلِ اعتماد سمجھتی ہے، جبکہ اسرائیل ان پر شکوک کا اظہار کرتا رہا ہے۔
ایک آزاد طبی جریدے، لانسیٹ، کی تحقیق کے مطابق جنگ کے پہلے 15 مہینوں میں ہی تشدد سے 75,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ اسی عرصے میں وزارتِ صحت کا اپنا عدد صرف 49,000 کے قریب تھا۔ لانسیٹ کے مطابق ان ہلاکتوں میں سے 56 فیصد خواتین، بچے اور بزرگ تھے۔
UN OCHA کے مطابق تقریباً 10,000 افراد اب تک لاپتہ ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
شہری اور جنگجو: تین مختلف تخمینے
| ماخذ | جنگجو | شہری |
|---|---|---|
| اسرائیلی فوج کا لیک شدہ انٹیلیجنس ڈیٹا بیس (مئی 2025) | تقریباً 8,900 نامزد جنگجو (7,330 تصدیق شدہ، 1,570 ممکنہ) | 53,000 کا تقریباً 83 فیصد |
| اسرائیل کا سرکاری دعویٰ | 20,000 سے زائد | کوئی تفصیل نہیں دی گئی؛ نہ ہی کوئی ثبوت جاری ہوا |
| اس تحریر کے لیے نکالا گیا (83 فیصد تناسب کو 73,783 پر لاگو کر کے) | تقریباً 12,500 | تقریباً 61,200 |
یہ لیک شدہ ڈیٹا بیس سب سے پہلے The Guardian، +972 Magazine اور Local Call نے رپورٹ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس ڈیٹا بیس کے وجود یا اس کے اعداد سے انکار نہیں کیا، البتہ کہا کہ یہ اس کا مکمل ڈیٹا نہیں۔ چونکہ یہ ڈیٹا بیس صرف نام سے شناخت شدہ جنگجوؤں کو شمار کرتا ہے، اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ اوپر دیا گیا تیسرا اندازہ محض ایک حساب ہے، کیونکہ 83 فیصد والا تناسب مئی 2025 کا ہے اور ممکن ہے کہ بعد کی ہلاکتوں پر اسی طرح لاگو نہ ہو۔
کل ہلاکتیں: ایک سادہ موازنہ
دونوں حصوں کو اکٹھا رکھ کر دیکھا جائے، بالکل سادہ الفاظ میں:
- 1989 سے اب تک حماس کے حملوں میں مرنے والے اسرائیلی: کم از کم 2,400، اور غالباً اس سے بھی زیادہ، کیونکہ کئی زمرے — جیسے 2000 سے 2008 کی فوجی ہلاکتیں اور اکتوبر 2025 کے بعد کی ہلاکتیں — اس کل میں شامل نہیں ہیں۔
- 2008 سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مرنے والے فلسطینی: کم از کم 78,000۔ یہ عدد 2008–09، 2012، 2014 اور 2021 کی جنگوں کی ہلاکتوں کو 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ وزارتِ صحت کے جاری کردہ عدد 74,389 کے ساتھ جوڑ کر نکالا گیا ہے۔ اس میں مغربی کنارے کی ہلاکتیں، 2008 سے پہلے کی ہلاکتیں، یا ملبے تلے دبے تقریباً 10,000 لاپتہ افراد شامل نہیں۔
اس فرق کی چاہے جو بھی توجیہ پیش کی جائے — قبضہ، حماس کی جانب سے "انسانی ڈھال" کا استعمال، ایک ریاستی فوج اور ایک مسلح گروہ کے درمیان طاقت کا عدم توازن، یا شہری اور جنگجو کی مختلف تعریفیں — خام اعداد میں اتنا بڑا فرق کسی بھی ذریعے نے سنجیدگی سے مسترد نہیں کیا۔ جو چیز واقعی متنازعہ ہے وہ یہ ہے کہ فلسطینی کل تعداد میں شہری اور جنگجو کا تناسب کیا ہے، جیسا کہ حصہ دوم میں بتایا جا چکا۔
حصہ سوم: دنیا بھر سے سرکاری مذمتیں
اس حصے میں دیکھا گیا ہے کہ کن حکومتوں نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی مذمت کی، اور کن حکومتوں نے اسرائیل کی غزہ مہم پر مذمت کی یا الزامات عائد کیے۔ اقوامِ متحدہ کے تمام تقریباً 193 رکن ممالک کے مؤقف کا مکمل جائزہ یہاں پیش نہیں کیا گیا — یہ خود ایک الگ، بڑا تحقیقی کام ہوتا۔ اس کے بجائے دستیاب سب سے جامع ٹریکرز — واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کی فہرست، ویکیپیڈیا کے "بین الاقوامی ردعمل" صفحات، اور نسل کشی کا الزام لگانے والے ممالک کی مرتب شدہ فہرستیں — کی مدد سے مستند مثالوں کے ساتھ عمومی رجحان دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
جن حکومتوں نے حماس کے حملے کی مذمت کی
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ایک ٹریکر کے مطابق، حملے کے فوراً بعد کم از کم 44 ممالک نے حماس کی مذمت کی اور اسے دہشتگردی قرار دیا۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان، یورپی کمیشن، نیٹو، یوکرین، نیدرلینڈز، ڈنمارک، ناروے، پولینڈ، برازیل (جو اس وقت اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا تھا)، پلاؤ، پاپوا نیو گنی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل تھے۔ افریقہ میں زیادہ تر ممالک نے کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا، البتہ کینیا، گھانا، ٹوگو، کیمرون اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو نے واضح طور پر حماس کی مذمت کی۔
بعد میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی: مکمل 22 رکنی عرب لیگ نے یورپی یونین اور 17 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے ایک اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت کی گئی اور حماس سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اجلاس سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں ہوا، اور اس میں قطر، مصر اور ترکی بھی شریک تھے — وہ ممالک جنہوں نے حملے کے فوراً بعد حماس کی مذمت نہیں کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جبکہ اسرائیلی حکومت نے اسے مصالحت کی ایک کوشش قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا، کیونکہ اس میں دو ریاستی حل پر بھی گفتگو ہوئی۔
جن حکومتوں نے حماس کی مذمت نہیں کی، یا اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا
فوری ردعمل میں قطر، کویت، شام اور عراق نے حماس کی مذمت کرنے کے بجائے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ایران اور یمن کی حوثی تحریک نے حملے کی تعریف یا حمایت کی۔ ترکی کا ابتدائی بیان صرف "تشدد پر گہری تشویش" کا اظہار تھا، جس میں نہ حماس کا نام لیا گیا نہ اس کی مذمت کی گئی۔ شام نے حماس کی مذمت والی اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے خلاف ووٹ ڈالا۔
جن حکومتوں اور اداروں نے اسرائیل پر نسل کشی یا جنگی جرائم کا الزام لگایا
جنوبی افریقہ نے دسمبر 2023 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا۔ 2024 کے اختتام تک 14 ممالک اس مقدمے میں شامل ہو چکے تھے یا شمولیت کا ارادہ ظاہر کر چکے تھے۔ عوامی بیانات کی بنیاد پر جن ممالک نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے لیے باقاعدہ "نسل کشی" کا لفظ استعمال کیا، ان میں افغانستان، الجزائر، بنگلہ دیش، بیلیز، بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوموروس، کیوبا، جبوتی، انڈونیشیا، ایران، عراق، آئرلینڈ، اردن، کویت، کرغزستان، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، مالدیپ، نمیبیا، نکاراگوا، عمان، پاکستان، قطر، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، سعودی عرب، سلووینیا، جنوبی افریقہ، اسپین، شام، تیونس، ترکی، وینزویلا اور یمن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، ستمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی مقرر کردہ ایک تحقیقاتی کمیشن نے باقاعدہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے — کمیشن نے اسے اس موضوع پر اپنا اب تک کا سب سے مضبوط نتیجہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ یہ ایک اقوامِ متحدہ کے ادارے کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی حکومت کا مؤقف۔
جن حکومتوں نے نسل کشی کے الزام کو مسترد کیا
ہر مغربی حکومت اس سوال پر خاموش نہیں رہی، کچھ نے کھل کر مزاحمت بھی کی۔ جرمنی اس کی واضح مثال ہے: اس وقت کے نائب چانسلر روبرٹ ہابیک اور وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک، دونوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتے، اور جنگ کو خود دفاع کا نام دیا۔
کن حکومتوں نے صرف ایک ہی فریق کی مذمت کی؟
اوپر دی گئی مثالوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ حکومتوں کا مؤقف پوری طرح یکطرفہ رہا، جبکہ دیگر — بشمول عرب لیگ کے کئی رکن ممالک — نے وقت کے ساتھ اپنا مؤقف بدلا یا دونوں طرف تشویش ظاہر کی:
- حماس کی مذمت کی، مگر اسرائیل پر نسل کشی کا الزام یا باقاعدہ مذمت نہیں کی: بڑی طاقتوں میں امریکہ اس کی سب سے واضح مثال ہے — اس نے حماس کی غیر مبہم مذمت کی اور اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات میں کبھی شامل نہیں ہوا، بلکہ فوجی اور سفارتی حمایت جاری رکھی۔
- حماس کی مذمت نہیں کی، اور اسرائیل پر نسل کشی یا جنگی جرائم کا الزام لگایا: ایران، شام اور یمن کی حوثی تحریک اس زمرے میں آتے ہیں — انہوں نے اکتوبر 2023 میں یا تو اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا یا حملے کی تعریف کی، اور تب سے اسرائیل کے خلاف کھل کر نسل کشی کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔
- جن کا مؤقف درمیان میں رہا یا وقت کے ساتھ بدلا: عرب لیگ کے کئی ممالک — قطر، سعودی عرب، کویت، ترکی، عراق — نے اکتوبر 2023 میں فوری طور پر حماس کی مذمت نہیں کی تھی، مگر بعد میں 2025 کے اعلامیے میں شامل ہو کر حملے کی مذمت کی اور حماس سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی غزہ پر اسرائیل پر تنقید بھی جاری رکھی۔ برازیل اور آئرلینڈ ایسی دو مثالیں ہیں جنہوں نے پہلے حماس کے حملے کی مذمت کی اور بعد میں اسرائیل کی مہم کو "نسل کشی" بھی قرار دیا، یعنی ان دونوں ممالک نے کسی ایک فریق کو نہیں بلکہ دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اہم حدود و احتیاطیں
- یہ اعداد و شمار متنازعہ ہیں۔ مختلف ادارے "شہری" اور "جنگجو" کی الگ الگ تعریف کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی جنگ کے بارے میں مختلف ذرائع مختلف اعداد دیتے ہیں۔
- ذرائع کا جھکاؤ۔ یہ تحریر دونوں طرف کے ذرائع سے مواد لیتی ہے — اسرائیلی حکومت اور اسرائیل نواز ذرائع (IDF، اسرائیلی وزارتِ خارجہ، Jewish Virtual Library، JNS) کے ساتھ ساتھ الجزیرہ، The New Arab اور فلسطین نواز بلاگز بھی۔ جو قاری مزید تسلی چاہتا ہو، اسے UN OCHA اور B'Tselem کے اعداد الگ سے دیکھنے چاہئیں۔
- نام رکھنے کا فرق۔ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ حماس کو ایک دہشتگرد تنظیم مانتے ہیں۔ حماس اور اس کے حامی انہی کارروائیوں کو اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کہتے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف جنگجوؤں کو نشانہ بناتا ہے اور شہری نقصان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
- یہ تحریر کیا شامل نہیں کرتی: 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کے اندر ہونے والی شہری ہلاکتیں، 2000 سے 2008 کے درمیان اسرائیلی فوجی ہلاکتیں، اور مغربی کنارے یا لبنان میں ہونے والی ہلاکتیں۔
- مذمتوں والے حصے پر ایک خاص بات: یہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کا سروے نہیں — تقریباً 193 ممالک موجود ہیں اور یہاں صرف دستیاب عوامی ٹریکرز کی مدد سے ایک حصے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کسی حکومت کا اوپر کی فہرستوں میں نہ آنا صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا کوئی عوامی بیان نہیں ملا، یہ ضروری نہیں کہ اس نے کوئی بیان دیا ہی نہ ہو۔ دو سال سے زائد جنگ کے دوران بہت سے ممالک کا مؤقف بدلا بھی ہے؛ کسی ملک کا اکتوبر 2023 کا ابتدائی ردعمل ضروری نہیں کہ آج بھی اس کا مؤقف ہو، اور اس کے برعکس بھی سچ ہو سکتا ہے۔
مصنف کا نوٹ
میں نے یہ تحریر اس لیے لکھی تاکہ اعداد و شمار کو واضح طور پر، ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر پیش کر سکوں، کیونکہ میرے خیال میں فرق کا پیمانہ خود اتنا واضح ہے کہ کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن میں یہ ظاہر نہیں کروں گا کہ ان اعداد کو دیکھ کر بھی میں غیر جانبدار ہوں۔
حماس کے قیام، یعنی 1987، سے لے کر آج تک اس کے حملوں میں تقریباً 2,400 اسرائیلی مارے گئے ہیں — فوجی اور شہری ملا کر۔ دوسری طرف، 2008 سے لے کر آج تک غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 70,000 سے زیادہ فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، اور آزاد تخمینوں کے مطابق ان میں سے نصف سے زیادہ خواتین، بچے اور بزرگ تھے۔ یہ اعداد ایک دوسرے کے قریب نہیں ہیں، نہ ہی کسی معقول پیمانے پر ان کا موازنہ بنتا ہے۔
اور اس کے باوجود دنیا کا ردعمل بھی اتنا ہی غیر متوازن ہے۔ حماس کو تقریباً پوری دنیا میں ایک دہشتگرد تنظیم کے طور پر مذمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کم ہی حکومتیں اس کے اقدامات کا دفاع کرنے آگے آتی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کو اپنے اتحادیوں سے اربوں ڈالر کی فوجی امداد ملتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ کی مقرر کردہ ایک کمیشن یہ نتیجہ نکال چکی ہے کہ وہ نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے، اور درجنوں حکومتیں یہی لفظ استعمال کر چکی ہیں۔ میرے نزدیک یہ توازن نہیں بلکہ دہرا معیار ہے — جہاں بہت کم جانی نقصان تقریباً عالمی مذمت کھینچ لیتا ہے، جبکہ کہیں زیادہ بڑے نقصان کو اسلحہ بھی دیا جاتا ہے، فنڈنگ بھی اور دفاع بھی۔
میں یہ توقع نہیں رکھتا کہ ہر قاری اسی نتیجے پر پہنچے جہاں میں پہنچا ہوں۔ اوپر دیا گیا پورا ڈیٹا آپ کے سامنے ہے تاکہ آپ خود اپنا فیصلہ کر سکیں۔ لیکن میں یہ اعداد شائع کرتے ہوئے یہ بھی صاف لفظوں میں بتانا چاہتا تھا کہ میرے خیال میں ان کا مطلب کیا ہے۔
ماخذ (Sources)
حماس کے حملے
- Wikipedia, List of Palestinian suicide attacks
- Wikipedia, Killing of Avi Sasportas and Ilan Saadon
- Wikipedia, Abduction and killing of Nachshon Wachsman
- US State Department, Patterns of Global Terrorism 1994
- MEED, "Tel Aviv bomb threatens peace talks"
- Gulf News, Israeli-Palestinian tension timeline
- PBS Frontline World, "The Rise of Hamas"
- Osen LLC, list of Hamas attacks
- Jewish Currents, on the Passover bombing
- Israel Ministry of Defense archive
- Jewish Virtual Library, Hebrew University bombing
- ynet, on Gilad Shalit
- NPR, "Hamas admits killing Israeli teens"
- IDF official site, "Who is the Hamas Terrorist Organization"
- Shin Bet chart on Hamas attacks (via hrvoices.org)
جنگی ہلاکتوں کے اعداد و شمار
- Times of Israel blog, "Gaza, rinse and repeat"
- AFP via Adhadhu, "Four previous Israel-Gaza wars"
- Naharnet, "Gaza Campaign by Numbers" (2012)
- Wikipedia, 2008–09 Gaza War (Cast Lead)
- Palestine Substack, "A brief history of Israel's wars on Gaza"
- The New Arab, "Death toll exceeds all Gaza wars"
7 اکتوبر اور اسرائیلی فوجی ہلاکتیں
- Protothema, "October 7, two years on"
- The National Desk (AP), "3 years since the attack"
- ARY News (AFP), on Israeli soldiers killed in Gaza
- GlobalSecurity (via IRNA), January 2025 Israeli military toll
- JNS, IDF toll update (October 2025)
- Peoples Gazette (via Xinhua), February 2026 update
- ARY News (AFP), September 26, 2026 update
- Bernama/WAFA, October 13, 2026 Gaza Health Ministry update
فلسطینی ہلاکتوں کے اعداد و شمار
- Qatar Tribune, Gaza Health Ministry figures (September 2026)
- Al Jazeera, "Israeli data shows 83 percent of Gaza war dead are civilians"
- Eastleigh Voice, summary of the leaked Israeli intelligence data (originally reported by The Guardian and +972 Magazine)
- CTV/AP, on the Lancet study covering the war's first 15 months
- Gulf News (AFP), on the Lancet study's death toll estimate
- Siasat (AP), on Israel's claim of 20,000 fighters killed
بین الاقوامی مذمتیں اور ردعمل
- The Washington Institute, "International Reactions to the Hamas Attack on Israel"
- Wikipedia, "International reactions to the Gaza war"
- Wikipedia, "International reactions to the Israel–Hamas war"
- Al Jazeera and France 24, world reaction roundups (October 7–8, 2023)
- Rappler and Time, world leader reaction roundups (October 2023)
- Jewish Telegraphic Agency (via Yahoo News), "In a first, Arab League countries condemn Oct. 7 attack, call on Hamas to disarm"
- Wikipedia, "South Africa's genocide case against Israel"
- Wikipedia, "List of humanitarian and human rights groups accusing Israel of genocide in Gaza"
- Zeteo, "Who Says Israel Is Committing a Genocide in Gaza? Everyone on This List"
- Al Jazeera, "Who accuses Israel of committing genocide in Gaza?"
- CNN, "UN commission says Israel is committing genocide in Gaza" (September 2025)
- Al Jazeera, "'Genocide', Colombia says as Latin American states condemn Israel over Gaza"
اس تحریر پر ایک آخری بات: اس تنازعے کے اعداد و شمار واقعی قابلِ اعتماد اداروں کے درمیان بھی متنازعہ ہیں، صرف مخالف سیاسی کیمپوں کے درمیان نہیں۔ جہاں کہیں اس تحریر میں کوئی عدد ایک حد (رینج) کی صورت میں دیا گیا ہے، یا کسی ایک ذریعے کا تخمینہ کہہ کر دیا گیا ہے نہ کہ طے شدہ حقیقت، وہاں یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ جو قارئین مزید کھوج لگانا چاہیں، انہیں اوپر دیے گئے ذرائع کے ساتھ ساتھ UN OCHA اور B'Tselem کے آزادانہ طور پر مرتب کردہ اعداد بھی ضرور دیکھنے چاہئیں۔