11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد، وفاقی حکومت نے صوبے کی بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر ردوبدل شروع کر دیا۔ اس تحریر میں یہ بتایا گیا ہے کہ اب تک کون سے اعلیٰ افسران تبدیل ہوئے، کس کو کیا ذمہ داری ملی، اور ضلعی سطح پر تبدیلیوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔
مجموعی جائزہ: 25 نوٹیفکیشن جاری
رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں ردوبدل کے لیے مجموعی طور پر 25 نوٹیفکیشن جاری کیے، جن میں سینئر سول افسران اور پولیس افسران دونوں شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں میں نئے چیف سیکرٹری کا تقرر، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے افسران کی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپسی، اور پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسران کی کے پی اور دیگر صوبوں کے درمیان تبدیلی شامل ہے۔
نئے چیف سیکرٹری کون ہیں؟
خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری کے عہدے پر سب سے اہم تبدیلی سامنے آئی۔ گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکرٹری مقرر کیا گیا، جبکہ ان سے پہلے یہ ذمہ داری شہاب علی شاہ کے پاس تھی۔ ڈاکٹر فخر عالم عرفان اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں بطور سیکرٹری خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا تقرر فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
کن افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجا گیا؟
چار پی اے ایس افسران کو خیبر پختونخوا سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی:
- ہمایوں مسعود سندھو (بی ایس-20)
- عرفان طارق (بی ایس-20)
- فصیح الدین (بی ایس-20)
- عمران خان (بی ایس-18)
نئی تقرریاں: صوبے کو کون سے افسران ملے
وزیراعظم ہاؤس میں قبل ازیں تعینات رہنے والے سینئر منتظم محمد یحییٰ خانزادہ کو صوبائی حکومت میں نئی ذمہ داری کے لیے تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں سے چار بی ایس-18 افسران کو خیبر پختونخوا میں تعینات کیا گیا ہے، تاہم ان افسران کے نام اور مخصوص ذمہ داریاں ابھی تمام ذرائع میں تفصیل سے سامنے نہیں آئیں۔
12 اضلاع کے لیے علیحدہ انتظامی ڈھانچہ
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، 12 ایمرجنسی اضلاع (آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع اور چار بندوبستی اضلاع: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت) کے لیے ایک الگ "ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ" (اے ڈی ایس) تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کی سربراہی ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری کرے گا، جس کے ساتھ ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اور مقامی نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ ڈھانچہ باقی صوبے کے معمول کے انتظامی نظام سے الگ کام کرے گا، اور براہِ راست وفاقی نگرانی میں رہے گا۔
پولیس قیادت: فی الحال واضح تصویر نہیں
رپورٹس میں پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کی کے پی اور دیگر جگہوں کے درمیان تبدیلی کا ذکر تو ملتا ہے، مگر انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) کے عہدے پر کسی نئے تقرر کی مصدقہ اور تفصیلی خبر تاحال سامنے نہیں آئی۔ اگر اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو یہ تحریر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنرز) میں تبدیلیاں: ابھی تفصیلات نامکمل
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ گزشتہ تجربات کے مطابق جب بھی کے پی میں بڑے پیمانے پر بیوروکریٹک ردوبدل ہوتا ہے، عام طور پر ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز اور ڈویژنل سطح کے افسران میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ تاہم 11 اکتوبر کے نوٹیفکیشنز سے متعلق دستیاب رپورٹس میں تاحال ضلع وار ڈپٹی کمشنرز کی مکمل اور حتمی فہرست شائع نہیں ہوئی۔ بعض ذرائع کے مطابق ایسی تبدیلیوں کی تیاری پہلے سے مکمل کر لی گئی تھی، مگر حتمی ناموں کی باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں ہوئی یا مکمل تفصیل کے ساتھ رپورٹ نہیں ہوئی۔
اس لیے، ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی غیر مصدقہ نام یا ضلع کا دعویٰ نہ کریں۔ جیسے ہی مستند ذرائع سے ضلعی سطح کی تفصیلی فہرست سامنے آئے گی، اس تحریر کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔
اب تک کی تبدیلیوں کا خلاصہ
| عہدہ / زمرہ | تفصیل |
|---|---|
| چیف سیکرٹری | ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نے شہاب علی شاہ کی جگہ لی |
| اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجے گئے پی اے ایس افسران | 4 (ہمایوں مسعود سندھو، عرفان طارق، فصیح الدین، عمران خان) |
| دیگر صوبوں سے کے پی آنے والے بی ایس-18 افسران | 4 (نام تاحال مکمل تفصیل سے دستیاب نہیں) |
| پی ایم آفس سے صوبائی حکومت منتقل | محمد یحییٰ خانزادہ |
| کل جاری کردہ نوٹیفکیشنز | 25 (سول اور پولیس افسران ملا کر) |
| آئی جی پولیس | تبدیلی کی تفصیلی تصدیق تاحال دستیاب نہیں |
| ڈپٹی کمشنرز (ضلعی سطح) | مکمل فہرست تاحال جاری نہیں ہوئی |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پرانے چیف سیکرٹری کو ہٹا دیا گیا؟
جی ہاں، شہاب علی شاہ کی جگہ ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔
کیا تمام افسران کی تبدیلی کا تعلق براہِ راست گورنر راج سے ہے؟
یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق انتظامی نوٹیفکیشنز اپنی جگہ ایک آزاد انتظامی عمل ہیں، اور خود بخود گورنر راج کی مکمل قانونی حیثیت کی تصدیق نہیں کرتے۔ دونوں کو الگ الگ، آئینی اعلانات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
کیا ڈپٹی کمشنرز کی سطح پر بھی تبدیلیاں ہوں گی؟
امکان موجود ہے، خاص طور پر 12 ایمرجنسی اضلاع میں، جہاں نیا انتظامی ڈھانچہ (اے ڈی ایس) قائم کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس تحریر کے وقت تک ضلعی سطح کی مکمل اور مصدقہ فہرست سامنے نہیں آئی۔
کیا پولیس کی اعلیٰ قیادت بھی تبدیل ہوئی؟
پی ایس پی افسران کی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں، مگر آئی جی پولیس کے عہدے پر کسی مخصوص تبدیلی کی تفصیلی اور مصدقہ خبر تاحال دستیاب نہیں۔
نوٹ: یہ ایک تیزی سے آگے بڑھنے والا انتظامی عمل ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید نوٹیفکیشنز متوقع ہیں، خاص طور پر ضلعی سطح پر۔ یہ تحریر دستیاب مصدقہ معلومات پر مبنی ہے، اور نامکمل تفصیلات کو جان بوجھ کر غیر مصدقہ ہی ظاہر کیا گیا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی ناموں کے لیے مستند خبر رساں اداروں کی تازہ ترین رپورٹس دیکھتے رہیں۔