گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے: جن 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگی، وہاں روزمرہ کا نظام اصل میں کیسے چلے گا؟ عام آدمی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ جواب صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو کئی لوگوں کو ماضی کی یاد دلا رہا ہے۔
نیا نظام: ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ (اے ڈی ایس)
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو ایک خصوصی سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے 12 اضلاع کے لیے "ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ" (اے ڈی ایس) کے قیام کا باضابطہ حکم جاری کیا۔ یہ صوبے کے باقی حصے کے معمول کے انتظامی نظام سے بالکل الگ، ایک متوازی نظام ہے۔
یہ نظام کس کی سربراہی میں چلے گا؟
اے ڈی ایس کی سربراہی خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ڈیزگنیٹڈ ڈسٹرکٹس) کریں گے، جو ساتھ ہی ان اضلاع کے "ایڈمنسٹریٹر" (منتظم) کے طور پر بھی کام کریں گے۔ ان اضلاع میں تعینات تمام صوبائی افسران اور دیگر اداروں کا عملہ اب اسی سیکرٹریٹ کے زیرِ انتظام اور آپریشنل کنٹرول میں آ جائے گا۔
ایڈمنسٹریٹر کے پاس کتنے اختیارات ہیں؟
- صوبائی حکومت کے تمام انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اختیارات ان اضلاع میں استعمال کرنا
- سول، پولیس اور فوجی حکام کو براہِ راست ہدایات جاری کرنا
- ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی
- فنڈز کی تقسیم اور منتقلی کا فیصلہ کرنا
- گورننس، سکیورٹی اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق نیا تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنا
- افسران کی تقرری و تبادلے کی سفارش کرنا، جس کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے
یعنی ایک ہی عہدے میں سول انتظامیہ، پولیس اور فوج تینوں پر ہدایات دینے کا اختیار مرکوز کر دیا گیا ہے — جو عام حالات کے مقابلے میں طاقت کا غیر معمولی ارتکاز ہے۔
ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی)
اے ڈی ایس کی نگرانی ایک کونسل کرے گی جسے "ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل" کہا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ کونسل متاثرہ اضلاع میں تعمیرِ نو اور ترقیاتی امور دیکھے گی، اور اس میں ان اضلاع کی "معروف شخصیات" شامل ہوں گی، جس کی سربراہی ایک چیئرمین کریں گے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: یہ کونسل کے ارکان منتخب نہیں بلکہ نامزد کیے جائیں گے۔ یہ ان منتخب صوبائی اسمبلی اراکین کا متبادل نہیں جو عام حالات میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
عام آدمی کو عملی طور پر کیا تبدیلیاں نظر آئیں گی؟
1. شکایات کا نیا راستہ
پہلے کوئی مسئلہ درپیش ہونے پر رہائشی اپنے منتخب رکن صوبائی اسمبلی یا مقامی انتظامیہ سے رجوع کرتے تھے، اور معاملہ بالآخر ایک فعال، منتخب صوبائی حکومت تک پہنچتا تھا۔ اب ان اضلاع میں یہ زنجیر ایک تعینات شدہ ایڈمنسٹریٹر پر ختم ہوتی ہے، جو خود منتخب نہیں بلکہ وفاق کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے۔
2. ترقیاتی فنڈز کا الگ راستہ
ان 12 اضلاع کے لیے فنڈز کی تقسیم اور منتقلی اب براہِ راست ایڈمنسٹریٹر کے دائرہ اختیار میں ہے، صوبے کے عام بجٹ کے عمل سے الگ۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقیاتی ترجیحات کا فیصلہ مقامی منتخب نمائندوں کے بجائے ایک وفاقی مقرر کردہ افسر کرے گا۔
3. سکیورٹی اور فوج کا بڑھتا کردار
چونکہ ایڈمنسٹریٹر کو فوجی حکام کو بھی ہدایات دینے کا اختیار حاصل ہے، اور حکومت کا بنیادی جواز ہی دہشتگردی اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال ہے، اس لیے ان اضلاع میں مزید نمایاں فوجی موجودگی، چیک پوسٹس اور ممکنہ کارروائیوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔
4. تقرریوں کا فیصلہ اب مرکز کے ہاتھ میں
ان اضلاع میں تعینات افسران کے تبادلے اور تقرریاں اب ایڈمنسٹریٹر کی سفارش اور وزیراعظم کی منظوری سے ہوں گی، نہ کہ معمول کے صوبائی طریقہ کار کے مطابق۔
ایک پرانی یاد: یہ نظام فاٹا کے پرانے نظام سے کتنا ملتا جلتا ہے؟
یہاں وہ پہلو آتا ہے جو ان اضلاع کے بہت سے رہائشیوں کے لیے خاص طور پر حساس ہے۔ آٹھ میں سے بارہ ایمرجنسی اضلاع وہی ہیں جو 2018 سے پہلے "فاٹا" (وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات) کہلاتے تھے۔ اس وقت ان علاقوں کا نظام ایک "پولیٹیکل ایجنٹ" چلاتا تھا، آئین کا آرٹیکل 247 انہیں صوبائی قوانین اور عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر رکھتا تھا، اور رہائشیوں کو نہ تو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی حاصل تھی، نہ عام شہریوں جیسے بنیادی حقوق۔
2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ کا عہدہ 116 سال بعد ختم ہوا، رہائشیوں کو مکمل آئینی حقوق — بشمول عدالت تک رسائی، مساوات اور نقل و حرکت کی آزادی — حاصل ہوئے، اور 2019 میں پہلی بار یہاں کے لوگوں نے اپنے منتخب نمائندے صوبائی اسمبلی میں بھیجے۔
تاہم، ضم شدہ اضلاع کے رہائشی برسوں سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ انضمام کے وعدے — پانچ سالہ منتقلی منصوبہ اور ایک کھرب روپے کا دس سالہ ترقیاتی پروگرام — پوری طرح پورے نہیں ہوئے۔ پولیس اور عدالتی نظام تاحال کم عملے کا شکار ہے، اور ترقیاتی فنڈز تاخیر کا شکار رہے ہیں۔
اب، نئے اے ڈی ایس نظام کے تحت، انہی اضلاع میں دوبارہ ایک غیر منتخب "ایڈمنسٹریٹر" کو مرتکز اختیارات دیے گئے ہیں، اور ایک نامزد کونسل کو مقامی نمائندگی کا ذریعہ بنایا گیا ہے — جو ڈھانچے کے اعتبار سے پرانے فاٹا سیکرٹریٹ نظام سے کافی مشابہت رکھتا ہے، اگرچہ قانونی طور پر یہ بالکل وہی نظام نہیں اور آرٹیکل 247 کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی مشابہت کی وجہ سے کئی مقامی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں یہ انضمام سے حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پیچھے ہٹنے کے مترادف تو نہیں۔
پرانا نظام، نیا نظام — فرق ایک نظر میں
| پہلو | 2018 سے پہلے (فاٹا) | 2018 سے 2026 تک (ضم شدہ اضلاع) | اب (اے ڈی ایس، 2026) |
|---|---|---|---|
| سربراہ | پولیٹیکل ایجنٹ | منتخب وزیراعلیٰ و کابینہ | نامزد ایڈمنسٹریٹر |
| نمائندگی | کوئی صوبائی نمائندگی نہیں | منتخب رکن صوبائی اسمبلی | نامزد ایریا کونسل |
| عدالتی رسائی | محدود، آرٹیکل 247 کے تحت | مکمل، عام عدالتیں | بظاہر برقرار |
| فنڈز کا فیصلہ | مرکزی سیکرٹریٹ | صوبائی بجٹ کا حصہ | براہِ راست ایڈمنسٹریٹر |
کیا یہ نظام مستقل ہے؟
آئینی طور پر نہیں۔ یہ انتظام ایمرجنسی کے اعلان سے جڑا ہوا ہے، جسے مقررہ مدت کے اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری درکار ہوگی۔ اگر منظوری نہ ملے تو یہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ تاہم، جیسا کہ تاریخ دکھاتی ہے، عارضی انتظامات بعض اوقات کئی ماہ یا برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ان اضلاع میں عام عدالتیں کام کرتی رہیں گی؟
دستیاب معلومات کے مطابق، 2018 کے انضمام سے حاصل ہونے والے بنیادی آئینی اور عدالتی حقوق بظاہر برقرار ہیں۔ یہ نظام قانونی طور پر پرانے فاٹا کے آرٹیکل 247 والے نظام سے مختلف ہے۔
کیا مقامی منتخب نمائندوں (ایم پی ایز) کا کردار ختم ہو گیا؟
ان کی رکنیت ختم نہیں ہوئی، مگر چونکہ پوری صوبائی اسمبلی کا معمول کا کام گورنر راج کے باعث متاثر ہے، اس لیے ان کا عملی کردار فی الحال محدود ہو گیا ہے، اور مقامی امور میں نامزد کونسل زیادہ فعال نظر آئے گی۔
کیا یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے ہے؟
نہیں، یہ آئینی طور پر ایمرجنسی کی مدت سے جڑا ہے اور پارلیمانی منظوری کا محتاج ہے۔
کیا تمام 12 اضلاع میں صورتحال ایک جیسی ہوگی؟
بنیادی ڈھانچہ ایک جیسا ہے، مگر عملی طور پر سکیورٹی صورتحال اور فوجی موجودگی ہر ضلع میں مختلف ہو سکتی ہے، خاص طور پر وزیرستان جیسے اضلاع میں جہاں سکیورٹی خدشات زیادہ بتائے جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ان 12 اضلاع کے رہائشیوں کے لیے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ ان کا رابطہ اب ایک منتخب، جوابدہ مقامی حکومت کے بجائے ایک وفاقی مقرر کردہ انتظامی افسر سے رہے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ عارضی اور امن کی بحالی کے لیے ناگزیر قدم ہے، جبکہ بہت سے مقامی حلقے اسے انضمام کی کامیابیوں کے لیے ایک دھچکا سمجھ رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ عملی طور پر زمین پر کیا بدلتا ہے۔