پاکستان کی پارلیمنٹ اور ایوانِ بالا (سینیٹ) سے اکثر ایسی قانون سازی اور مراعات کی خبریں سامنے آتی ہیں جو عام شہری کے زخموں پر نمک پاشی کا باعث بنتی ہیں۔ کبھی اراکین کی تنخواہوں میں ہوشربا اضافے کی بات ہوتی ہے اور کبھی ایسی تجاویز سامنے آتی ہیں کہ اگر کوئی شخص محض ایک دن کے لیے بھی سینیٹر منتخب ہو یا اپنی مدت پوری نہ بھی کرے، تو اسے اور اس کے خاندان کو تاحیات بلیو پاسپورٹ (Blue Passport) اور دیگر خصوصی مراعات سے نوازا جائے۔ ایک طرف اشرافیہ کی یہ بے حساب مراعات ہیں، اور دوسری طرف ملک کے عام شہری پر ٹوٹنے والا سنگین ترین معاشی، سماجی اور ذہنی عذاب ہے۔
تلخ حقائق اور اعداد و شمار کا آئینہ
اگر ہم جذبات سے ہٹ کر صرف مستند عالمی اور مقامی اداروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورتحال کی سنگینی رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے:
غربت کی دلدل: عالمی بینک (World Bank) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خطے میں غریب ترین افراد کا ایک بڑا تناسب پاکستان میں بستا ہے۔ مہنگائی، بے جا ٹیکسوں اور بجلی و گیس کے ظالمانہ بلوں نے سفید پوش اور متوسط (Middle Class) طبقے کی کمر توڑ کر انہیں بھی غربت کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
ڈگری یافتہ بے روزگار نوجوان: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق ملک میں پڑھے لکھے اور گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 31 سے 33 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی ہر تین میں سے ایک ڈگری یافتہ نوجوان بے روزگار ہے۔ جس ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہ ہو اور سفارش و اقربا پروری کا راج ہو، وہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئی ہیں۔
تعلیم سے محروم مستقبل: اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف (UNICEF) کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑ 60 لاکھ (26 ملین) سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ دنیا بھر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-A ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا بنیادی حق دیتا ہے، مگر عملی طور پر کروڑوں بچوں سے ان کا یہ حق چھین لیا گیا ہے۔
ذہنی امراض اور خودکشیاں: برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) اور ماہرینِ نفسیات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 34 فیصد آبادی (یعنی ہر 3 میں سے 1 شخص) ڈپریشن، اینگزائٹی یا کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ معاشی بدحالی، بے روزگاری اور مستقبل کی بے یقینی ہے۔ فکرِ معاش اور حالات کی ستم ظریفی نے کئی باصلاحیت نوجوانوں کو خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
برین ڈرین (راہِ فرار): بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں 15 سے 20 لاکھ سے زائد پاکستانی، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور ہنرمند نوجوان شامل ہیں، ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ آج ہر پاکستانی موقع کی تلاش میں ہے کہ کسی طرح اس نظام سے نکل جائے۔
جلتی پر تیل کا کام کرتی پالیسیاں
سالہا سال سے، اور بالخصوص 2022 کے بعد سے، عوام کو صرف یہ تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ "تھوڑا اور صبر کریں، قربانی دیں، جلد معاشی استحکام آ جائے گا۔" لیکن تعاون اور قربانی کے نام پر صرف غریب اور متوسط طبقے کو کولہو کے بیل کی طرح پیسا جا رہا ہے۔
ایک طرف عوام سے بنیادی ضروریاتِ زندگی چھینی جا رہی ہیں، امن و امان کی صورتحال ابتر ہے اور سیاسی طور پر لوگ مکمل طور پر ناامید ہو چکے ہیں؛ تو دوسری طرف حکمران طبقے اور اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات، پروٹوکولز اور مفت کی مراعات میں ایک انچ بھی کمی نہیں آ رہی۔ ایسے حالات میں جب منتخب نمائندے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی مراعات میں غیر معمولی اور غیر ضروری اضافہ کریں گے، تو یہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟
وقت کا تقاضا اور آنے والا طوفان
حکومتِ وقت اور اربابِ اختیار کو اب ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ کاغذی دعوؤں کے بجائے بروقت اور درست فیصلے کر کے عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آنے والے چند سالوں میں جب پاکستان کی نئی نسل (Gen Z) کے کندھوں پر اپنے گھروں، خاندانوں اور اس ملک کی عملی ذمہ داری آئے گی، تو یہ مایوس اور حالات کے ستائے ہوئے نوجوان خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اگر ان کے ہاتھوں میں روزگار اور آنکھوں میں بہتر مستقبل کی امید نہ ہوئی، تو یہ سوئے ہوئے شیر بیدار ہو کر سدھار کے نام پر بہت کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے اشرافیہ کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔