Biography

جنرل پرویز مشرف: مکمل سوانح حیات

Read in English
جنرل پرویز مشرف: مکمل سوانح حیات

جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کے ان چند کرداروں میں سے ہیں جن کے فیصلوں نے اکیسویں صدی کے آغاز میں پاکستان کے داخلی ڈھانچے، معیشت، میڈیا اور خارجہ پالیسی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ وہ پاک فوج کے ساتویں کمانڈر انچیف/آرمی چیف، ملک کے چیف ایگزیکٹو اور دسویں صدرِ مملکت رہے۔

خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی اور تعلیم (1943ء – 1961ء)

پیدائش اور خاندان: پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر پرانی دہلی کے علاقے دریا گنج (کوچہ سعد اللہ خان) کی تاریخی "نہر والی حویلی" میں ایک تعلیم یافتہ سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مشرف الدین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دیتے تھے، جبکہ ان کی والدہ بیگم زرین لکھنؤ سے تعلیم یافتہ تھیں اور بعد ازاں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (ILO) سے وابستہ رہیں۔ مشرف اپنے تین بھائیوں (جاوید مشرف، پرویز مشرف، نوید مشرف) میں دوسرے نمبر پر تھے۔

ہجرت اور ترکیہ میں قیام: اگست 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ 1949ء میں ان کے والد کا تبادلہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ہو گیا۔ مشرف نے 1949ء سے 1956ء تک اپنے بچپن کے سات اہم سال ترکیہ میں گزارے۔ وہاں انہوں نے ترکش زبان روانی سے سیکھی اور جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے افکار سے گہرا اثر قبول کیا، جس کی جھلک بعد میں ان کی پالیسیوں میں بھی نظر آئی۔

اسکول اور کالج کی تعلیم: 1956ء میں پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے کراچی کے معروف سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد لاہور کے تاریخی فارمن کرسچن کالج (FC College) میں داخلہ لیا جہاں ریاضی اور معاشیات ان کے پسندیدہ مضامین رہے۔

ازدواج اور اولاد: 28 دسمبر 1968ء کو ان کی شادی صہبا فرید سے ہوئی، جن سے ان کے دو بچے، بیٹا بلال مشرف اور بیٹی عائلہ مشرف ہیں۔

عسکری کیریئر کا آغاز اور جنگیں (1961ء – 1998ء)

ملٹری اکیڈمی کاکول: 1961ء میں انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کاکول کے 29ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ اپریل 1964ء میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہیں آرٹلری (توپ خانہ) رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن ملا اور ان کی پہلی تعیناتی کھاریاں کینٹ میں ہوئی۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ: کمیشن ملنے کے ایک سال بعد ہی ستمبر 1965ء کی جنگ چھڑ گئی۔ انہوں نے کھیم کرن اور لاہور سیکٹر میں فیلڈ آرٹلری رجمنٹ کے ساتھ محاذِ جنگ پر خدمات انجام دیں۔ شدید گولہ باری کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے پر انہیں "امتیازی سند" سے نوازا گیا۔

ایس ایس جی (SSG) کمانڈو اور 1971ء کی جنگ: 1966ء میں انہوں نے پاک فوج کے ایلیٹ کمانڈو دستے "اسپیشل سروسز گروپ" (SSG) میں شمولیت اختیار کی اور 1972ء تک اس سے وابستہ رہے۔ 1971ء کی جنگ کے دوران وہ ایس ایس جی کمانڈو بٹالین کی ایک کمپنی کے کمانڈر تھے اور پنجاب کے محاذ پر تعینات رہے۔

سیاچن کا محاذ (1987ء): ستمبر 1987ء میں بحیثیت بریگیڈیئر انہوں نے سیاچن گلیشیئر کے انتہائی دشوار گزار محاذ (بلافونڈ لا درہ) پر ایس ایس جی کے نئے قائم کردہ بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔

اعلیٰ عسکری تعلیم اور ترقی کے مراحل: انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس کالج (NDC) راولپنڈی سے کورسز کیے، جبکہ برطانیہ کے باوقار رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز (RCDS) سے بھی اعلیٰ عسکری تربیت حاصل کی۔

1991ء: میجر جنرل کے عہدے پر ترقی ملی اور 15 جنوری 1991ء کو اوکاڑہ میں 40ویں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) مقرر ہوئے۔

1993ء: پاک فوج کے انتہائی اہم عہدے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) پر تعینات ہوئے اور بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وزیر اعظم کے بریفنگ افسر کے طور پر بھی کام کیا۔

1995ء: لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پا کر ملک کی اہم ترین اسٹرائیک کور، کور کمانڈر منگلا (1 کور) تعینات ہوئے۔

آرمی چیف کی تعیناتی اور کارگل کا معرکہ (1998ء – 1999ء)

آرمی چیف کی تقرری: اکتوبر 1998ء میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام سے متعلق اپنے ایک بیان پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اعتراض کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ 7 اکتوبر 1998ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے سینیئر جنرلز (لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز) کو نظر انداز کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو فور اسٹار جنرل بنا کر چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔ اپریل 1999ء میں انہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔

کارگل جنگ (مئی تا جولائی 1999ء): فروری 1999ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور اور "اعلانِ لاہور" کے چند ماہ بعد مئی 1999ء میں کارگل اور دراس کے پہاڑی سلسلے میں پاک بھارت مسلح تصادم شروع ہو گیا۔ جنرل مشرف اس آپریشن کے مرکزی منصوبہ ساز تھے، جس کا مقصد سیاچن کو ملانے والی بھارتی سپلائی لائن (NH-1D) کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم، اس اقدام پر پاکستان کو شدید عالمی سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 4 جولائی 1999ء کو واشنگٹن میں امریکی صدر بل کلنٹن اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد پاکستانی دستوں کی واپسی کا اعلان ہوا۔ اس واقعے نے سول حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان شدید بےاعتمادی اور خلیج پیدا کر دی۔

12 اکتوبر 1999ء کا ٹیک اوور اور مارشل لاء

کارگل تنازع کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے تھے۔

طیارہ کیس اور بغاوت: اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف سری لنکا کی فوج کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے کولمبو گئے ہوئے تھے۔ 12 اکتوبر کی شام جب وہ پی آئی اے کی پرواز (PK-805) کے ذریعے کراچی واپس آ رہے تھے، تو وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں برطرف کر کے ان کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کر دیا اور مشرف کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ دینے کے احکامات جاری کیے۔

فوج کا جوابی اقدام: راولپنڈی اور کراچی میں موجود کور کمانڈرز نے وزیر اعظم کے اس حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ فوج نے پی ٹی وی، وزیر اعظم ہاؤس اور کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے بعد مشرف کا طیارہ بحفاظت کراچی میں اتر گیا (اس وقت جہاز میں صرف چند منٹ کا ایندھن باقی تھا)۔

چیف ایگزیکٹو کا عہدہ: 14 اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے 1973ء کا آئین معطل کر دیا، عبوری آئینی حکم نامہ (PCO) جاری کیا اور روایتی "چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر" کے بجائے خود کو ملک کا "چیف ایگزیکٹو" قرار دیا۔ مئی 2000ء میں سپریم کورٹ نے "ظفر علی شاہ کیس" میں نظریہ ضرورت کے تحت ان کے اقدام کو تین سال کی مدت کے لیے قانونی جواز فراہم کیا اور آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔ دسمبر 2000ء میں سعودی عرب کی ثالثی سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو دس سال کے لیے جلاوطن کر کے جدہ بھیج دیا گیا۔

صدارت، ریفرنڈم اور آئینی و سیاسی ڈھانچہ (2001ء – 2004ء)

منصبِ صدارت: بھارت کے دورے (آگرہ سمٹ) سے قبل 20 جون 2001ء کو جنرل مشرف نے اُس وقت کے صدر محمد رفیق تارڑ کو عہدے سے ہٹا کر خود صدرِ پاکستان کا حلف اٹھا لیا۔

صدارتی ریفرنڈم (2002ء): اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے انہوں نے 30 اپریل 2002ء کو ملک گیر صدارتی ریفرنڈم کروایا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 97 فیصد سے زائد ووٹروں نے ان کی پانچ سالہ صدارت کے حق میں ووٹ دیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے شدید دھاندلی زدہ قرار دیا۔

لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) اور 2002ء کے انتخابات: اگست 2002ء میں انہوں نے "لیگل فریم ورک آرڈر" جاری کر کے آئین میں متعدد ترامیم کیں، جن میں صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار (58-2B) دوبارہ دینا اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام شامل تھا۔ اکتوبر 2002ء میں عام انتخابات کروائے گئے جن کے نتیجے میں مشرف کی حامی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ ان کے دور میں بالترتیب میر ظفر اللہ خان جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز نے بطور وزیر اعظم خدمات انجام دیں۔

سترہویں آئینی ترمیم (2003ء): دسمبر 2003ء میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد "متحدہ مجلسِ عمل" (MMA) کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سترہویں آئینی ترمیم منظور کی گئی، جس کے بدلے مشرف نے دسمبر 2004ء تک فوجی وردی اتارنے کا وعدہ کیا، تاہم بعد ازاں انہوں نے یہ وعدہ پورا نہ کیا اور دونوں عہدے اپنے پاس رکھے۔

نائن الیون (9/11) اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر القاعدہ کے حملوں نے عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ مشرف حکومت کی سمت بھی بدل دی۔

امریکی الٹی میٹم اور خارجہ پالیسی میں یوٹرن: امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج نے پاکستان کے سامنے سات مطالبات رکھے۔ مشرف نے اپنی سوانح عمری میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے تعاون نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو "پتھر کے دور" (Stone Age) میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی۔ مشرف نے "سب سے پہلے پاکستان" کا نعرہ لگاتے ہوئے افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت ختم کرنے اور امریکہ کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ" (War on Terror) میں فرنٹ لائن اتحادی بننے کا فیصلہ کیا۔

تعاون اور مالی امداد: پاکستان نے امریکی و اتحادی افواج کو فضائی راہداری، لاجسٹک سپورٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور شمسی ایئربیس سمیت چند ہوائی اڈے فراہم کیے۔ اس کے بدلے پاکستان پر عائد ایٹمی پابندیاں ختم ہو گئیں، اربوں ڈالر کے بیرونی قرضے ری شیڈول یا معاف ہوئے، اور 2004ء میں امریکہ نے پاکستان کو "میجر نان نیٹو اتحادی" (Major Non-NATO Ally) کا درجہ دے دیا۔

داخلی اثرات اور خودکش حملے: اس پالیسی پر ملک کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل آیا۔ القاعدہ اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف قبائلی علاقوں (جنوبی و شمالی وزیرستان) میں پہلی بار پاک فوج تعینات کی گئی اور آپریشنز شروع ہوئے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر دہشت گردی اور خودکش حملوں کی لہر دوڑ گئی۔ دسمبر 2003ء میں راولپنڈی کے جھنڈا چچی پل کے قریب چودہ دن کے وقفے سے خود جنرل مشرف کے قافلے پر دو خوفناک خودکش حملے ہوئے جن میں وہ بال بال بچے۔

مسئلہ کشمیر، آگرہ سمٹ اور چار نکاتی فارمولا

پرویز مشرف نے کارگل کے معمار ہونے کے باوجود صدارت سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے غیر روایتی لچک دکھائی۔

آگرہ سمٹ (جولائی 2001ء): انہوں نے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی دعوت پر بھارت کا دورہ کیا۔ آگرہ میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے، لیکن اس دورے کے دوران بھارتی میڈیا کے مدیران کے ساتھ مشرف کی بے باک گفتگو نے انہیں عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت بخشی۔

لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اور جامع مذاکرات: نومبر 2003ء میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ جنوری 2004ء میں اسلام آباد میں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر مشرف اور واجپائی کے درمیان ملاقات سے پاک بھارت "جامع مذاکرات" (Composite Dialogue) کا آغاز ہوا، جسے بعد ازاں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ بھی آگے بڑھایا گیا۔

مسئلہ کشمیر پر چار نکاتی فارمولا: مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک غیر رسمی "چار نکاتی فارمولا" پیش کیا، جس کے اہم نکات یہ تھے:

  • کشمیر کی سرحدوں میں تبدیلی کیے بغیر کنٹرول لائن کو غیر متعلقہ بنا کر آزادانہ نقل و حرکت (Soft Borders) کی اجازت دی جائے
  • جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کو مرحلہ وار غیر فوجی علاقہ (Demilitarize) بنایا جائے
  • دونوں اطراف کے کشمیریوں کو داخلی خود مختاری (Self-Governance) دی جائے
  • بھارت، پاکستان اور کشمیری نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ نگرانی کا نظام (Joint Supervision Mechanism) قائم کیا جائے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا معاملہ (2004ء): جنوری 2004ء میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی دباؤ کے پیش نظر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ٹیلی ویژن پر اعترافی بیان دلوایا گیا اور بعد ازاں مشرف نے انہیں صدارتی معافی دے کر نظر بند کر دیا، جس پر ملک کے اندر مشرف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

معاشی، تعلیمی، بلدیاتی اور سماجی اصلاحات

پرویز مشرف کے دور کے ابتدائی چھ سال (2000ء تا 2006ء) پاکستان میں کئی بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے لیے جانے جاتے ہیں:

شعبہنمایاں اقدامات اور اصلاحات
معیشت اور سرمایہ کاریشوکت عزیز کی معاشی ٹیم کے تحت بینکاری کی نجکاری، ٹیلی کام سیکٹر کا فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ 2004ء سے 2006ء کے درمیان پاکستان کی معاشی شرح نمو (GDP Growth) 7 سے 8 فیصد تک پہنچی اور کراچی اسٹاک ایکسچینج نے تاریخی بلندیوں کو چھوا۔ چین کے تعاون سے گوادر ڈیپ سی پورٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔
مقامی حکومتوں کا نظام (Devolution Plan 2001)بیوروکریسی کے اختیارات کم کر کے ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب ناظمین کو مالی و انتظامی اختیارات منتقل کیے گئے۔
آزاد الیکٹرانک میڈیا (PEMRA)2002ء میں پیمرا کا قیام عمل میں لایا گیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار درجنوں نجی ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو لائسنس جاری کیے گئے۔
اعلیٰ تعلیم (HEC)2002ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ختم کر کے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کی سربراہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) قائم کیا گیا۔ تعلیم کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا، درجنوں نئی جامعات بنیں اور ہزاروں طلبہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی گئیں۔
خواتین کے حقوق اور روشن خیالی"روشن خیال اعتدال پسندی" (Enlightened Moderation) کا نظریہ پیش کیا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا کوٹہ بڑھایا، مسلح افواج میں خواتین کی شمولیت کے دروازے کھولے، ڈاکٹر شمشاد اختر کو اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر مقرر کیا اور 2006ء میں "تحفظِ نسواں بل" منظور کروایا۔

شدید بحران، تنازعات اور اقتدار سے علیحدگی (2006ء – 2008ء)

2006ء کے بعد مشرف کے یکے بعد دیگرے کیے گئے سخت فیصلوں نے ان کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا اور ان کے اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار کی:

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت (اگست 2006ء): بلوچستان میں گیس رائلٹی اور صوبائی حقوق کے تنازع پر حالات کشیدہ ہوئے۔ 26 اگست 2006ء کو کوہلو کے پہاڑوں میں ایک فوجی آپریشن کے دوران بزرگ بلوچ رہنما اور سابق گورنر و وزیر اعلیٰ نواب اکبر خان بگٹی جاں بحق ہو گئے، جس سے بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور شورش کی ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔

عدلیہ بحران اور وکلاء تحریک (مارچ 2007ء): 9 مارچ 2007ء کو جنرل مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو آرمی ہاؤس بلا کر استعفیٰ طلب کیا اور ان کے انکار پر انہیں غیر فعال کر کے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج دیا۔ اس اقدام کے خلاف ملک گیر "وکلاء تحریک" شروع ہوئی۔ 12 مئی 2007ء کو چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر لسانی و سیاسی فسادات پھوٹ پڑے جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ جولائی 2007ء میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے افتخار چوہدری کو بحال کر دیا۔

لال مسجد آپریشن (جولائی 2007ء): اسلام آباد کے قلب میں واقع لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ (مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی) اور حکومت کے درمیان نفاذِ شریعت اور متوازی عدالتی نظام کے معاملے پر کئی ماہ سے جاری کشیدگی جولائی 2007ء میں مسلح تصادم میں بدل گئی۔ 3 سے 11 جولائی تک جاری رہنے والے "آپریشن سائلنس" میں عبدالرشید غازی سمیت سو سے زائد افراد مارے گئے۔ اس واقعے کے ردعمل میں دسمبر 2007ء میں تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) وجود میں آئی اور ملک بھر میں خودکش حملوں کا طوفان آ گیا۔

این آر او (NRO) اور 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی: امریکہ اور برطانیہ کی ثالثی سے مشرف نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے لیے 5 اکتوبر 2007ء کو "قومی مفاہمتی آرڈیننس" (NRO) جاری کیا جس کے تحت سیاست دانوں پر قائم بدعنوانی کے پرانے مقدمات ختم کر دیے گئے۔ دوسری جانب، جب سپریم کورٹ میں مشرف کے وردی میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف فیصلہ آنے کا امکان پیدا ہوا، تو انہوں نے 3 نومبر 2007ء کو ملک میں دوسری بار ایمرجنسی نافذ کر کے آئین معطل کر دیا، نیا پی سی او جاری کیا، اعلیٰ عدلیہ کے 60 کے قریب ججوں کو برطرف کر کے نظر بند کر دیا اور نجی نیوز چینلز کی نشریات بند کر دیں۔

وردی کی واپسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت: شدید اندرونی و بیرونی دباؤ کے تحت 28 نومبر 2007ء کو انہوں نے پاک فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی اور اگلے روز بطور سویلین صدر حلف اٹھایا۔ تاہم، 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل نے مشرف حکومت کو سیاسی طور پر مفلوج کر دیا۔

2008ء کے انتخابات اور استعفیٰ: 18 فروری 2008ء کے عام انتخابات میں مشرف کی حامی ق لیگ کو بدترین شکست ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مخلوط حکومت بنائی۔ اگست 2008ء میں جب حکمران اتحاد نے مشرف کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک لانے کا حتمی فیصلہ کیا، تو جنرل پرویز مشرف نے 18 اگست 2008ء کو قوم سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

جلاوطنی، مقدمات، تصانیف اور وفات (2008ء – 2024ء)

خودساختہ جلاوطنی اور سیاسی جماعت: استعفے کے بعد وہ لندن اور دبئی منتقل ہو گئے۔ یکم اکتوبر 2010ء کو انہوں نے لندن میں اپنی سیاسی جماعت "آل پاکستان مسلم لیگ" (APML) کی بنیاد رکھی۔

وطن واپسی اور گرفتاری (2013ء): 24 مارچ 2013ء کو وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے، لیکن عدالتوں نے ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر کے انہیں تا حیات نااہل قرار دے دیا۔ انہیں چک شہزاد (اسلام آباد) میں واقع ان کے فارم ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا۔

سنگین غداری کا مقدمہ اور سزائے موت: ان پر بے نظیر بھٹو قتل کیس، اکبر بگٹی قتل کیس، ججوں کی نظر بندی کیس اور لال مسجد کیس کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے دسمبر 2013ء میں 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی لگانے پر آئین کے آرٹیکل 6 (سنگین غداری) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ مارچ 2016ء میں عدالت سے نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد وہ علاج کی غرض سے دبئی چلے گئے اور دوبارہ واپس نہ آ سکے۔

17 دسمبر 2019ء کو جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق فوجی حکمران کو آئین توڑنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا۔

جنوری 2020ء میں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے کر یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی، لیکن مشرف کی وفات کے بعد 10 جنوری 2024ء کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے خصوصی عدالت کی سنائی گئی سزائے موت کو بعد از مرگ بحال اور برقرار رکھا۔

تصنیف: ستمبر 2006ء میں ان کی سوانح عمری "In the Line of Fire: A Memoir" شائع ہوئی، جس کا اردو ترجمہ "سب سے پہلے پاکستان" کے نام سے شائع ہوا۔

بیماری اور وفات: پرویز مشرف زندگی کے آخری چند سالوں میں "ایمیلائیڈوسس" (Amyloidosis) نامی ایک نایاب اور لاعلاج بیماری میں مبتلا رہے، جس میں جسم کے اعضاء میں غیر معمولی پروٹین جمع ہونے سے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ طویل علالت کے بعد 5 فروری 2023ء کو 79 برس کی عمر میں دبئی کے امریکن ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کا جسدِ خاکی خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا جہاں 7 فروری 2023ء کو ملیر کینٹ کے فوجی قبرستان میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی گئی۔

زندگی اور اقتدار کے اہم سنگِ میل

مرحلہتاریختفصیل
پیدائش11 اگست 1943ءبرطانوی ہندوستان کے شہر پرانی دہلی کی نہر والی حویلی میں سید مشرف الدین کے ہاں پیدا ہوئے۔
پاک فوج میں کمیشناپریل 1964ءپاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت مکمل کر کے آرٹلری رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا۔
آرمی چیف کی تعیناتی7 اکتوبر 1998ءوزیر اعظم نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کے استعفے کے بعد انہیں فور اسٹار جنرل اور آرمی چیف مقرر کیا۔
کارگل تنازع اور فوجی بغاوتمئی تا اکتوبر 1999ءمئی تا جولائی کارگل کی جنگ لڑی گئی؛ 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر چیف ایگزیکٹو بن گئے۔
حلفِ صدارت اور نائن الیونجون تا ستمبر 2001ء20 جون 2001ء کو صدرِ پاکستان کا عہدہ سنبھالا؛ ستمبر 2001ء کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بنے۔
لال مسجد آپریشن اور ایمرجنسیجولائی تا نومبر 2007ءمارچ میں عدلیہ بحران، جولائی میں لال مسجد آپریشن اور 3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی لگا کر ججوں کو نظر بند کیا؛ 28 نومبر کو فوج کی کمان چھوڑی۔
صدارت سے استعفیٰ18 اگست 2008ءحکمران اتحاد کی جانب سے مواخذے کی تحریک کے دباؤ پر اپنے نو سالہ اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے صدارت سے مستعفی ہو گئے۔
سنگین غداری کیس کا فیصلہ اور وفات2019ء – 2023ءدسمبر 2019ء میں خصوصی عدالت نے آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی؛ 5 فروری 2023ء کو دبئی میں 79 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور کراچی میں سپردِ خاک ہوئے۔