کسی بھی ملک کی معاشی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں اور ان کے درمیان تجارت کے راستے کس حد تک کھلے ہیں۔ جغرافیائی طور پر پاکستان ایک ایسے اہم ترین سنگم پر واقع ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو آپس میں ملاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی رکاوٹوں کے بعد اب ایران کے ساتھ بھی سرحد کی بندش نے ایک نئے معاشی اور سفارتی بحران کو جنم دے دیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مشرق سے مغرب تک تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارے دروازے بند ہو جائیں گے، تو معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا؟
مشرق سے مغرب تک: بند دروازوں کی کہانی
پاکستان کی سرحدی پالیسی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پچھلے کئی سالوں سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں:
پاک-بھارت سرحد (واہگہ): مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ سیاسی و سفارتی کشیدگی کے باعث دوطرفہ تجارت پہلے ہی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ جو اشیاء ہمسایہ ملک سے سستے داموں اور کم وقت میں آ سکتی تھیں، وہ اب تیسرے ملک کے راستے مہنگے داموں منگوائی جاتی ہیں۔
پاک-افغان سرحد (طورخم، چمن، غلام خان): مغربی سرحد پر سیکیورٹی خدشات، ٹی ٹی پی کا مسئلہ، اور 'ون ڈاکومنٹ رجیم' (پاسپورٹ اور ویزا کی شرط) کے نفاذ کے بعد سے طورخم اور چمن بارڈر پر آئے روز تالے پڑے رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت تباہ ہوئی ہے بلکہ وسطی ایشیائی ممالک (CARs) تک رسائی کا خواب بھی ادھورا نظر آتا ہے۔
پاک-ایران سرحد (تفتان، گبد، مند): اب ایران کے ساتھ سرحد کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سیکیورٹی واقعات، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی ضوابط کی آڑ میں جب یہ راستہ بند ہوتا ہے، تو بلوچستان سمیت پورے ملک میں اس کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔
عام آدمی کی جیب اور سرحدی اضلاع کا روزگار
بین الاقوامی سرحدوں کی بندش کا سب سے پہلا اور براہِ راست شکار ہمیشہ عام شہری اور چھوٹا تاجر بنتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں صنعتیں یا کارخانے موجود نہیں ہیں؛ یہاں کے لاکھوں لوگوں کا واحد روزگار سرحدی تجارت (Border Trade) سے وابستہ ہے۔
مہنگائی کا طوفان: ایران اور افغانستان سے آنے والی اشیائے خورونوش، تازہ پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات اور ایرانی تیل و گیس کی سپلائی رکتے ہی مقامی منڈیوں میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔
ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کی بے روزگاری: سرحد کے دونوں اطراف کھڑے سینکڑوں مال بردار ٹرکوں میں لدا کروڑوں روپے کا سامان (خاص طور پر خراب ہونے والی خوراک) گل سڑ جاتا ہے۔ روزانہ اجرت کمانے والے ہزاروں مزدور، ڈرائیورز اور کلیئرنگ ایجنٹس فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انسانی و سماجی المیہ: ان سرحدوں کے آر پار لوگوں کے صدیوں پرانے خاندانی، قبائلی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ سرحد بند ہونے سے مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے، زائرین راستے میں پھنس جاتے ہیں اور خاندان ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔
سیکیورٹی بمقابلہ معیشت: توازن کہاں ہے؟
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے اس کی قومی سلامتی اور سرحدوں کا تحفظ سب سے مقدم ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام اور غیر قانونی اسمگلنگ کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن دنیا بھر میں سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سرحدوں کو مستقل یا بار بار بند نہیں کیا جاتا، بلکہ بارڈر مینجمنٹ کے جدید نظام (Smart Border Management) کو اپنایا جاتا ہے۔
سرحد بند کر دینا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ سفارتی اور انتظامی چینلز ناکام ہو چکے ہیں۔ جب قانونی راستے بند کیے جاتے ہیں، تو غیر قانونی راستوں اور بلیک مارکیٹنگ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جس سے نہ ریاست کو ٹیکس ملتا ہے اور نہ ہی سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
پاکستان اس وقت جس معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے، وہاں علاقائی تنہائی (Regional Isolation) کا متحمل ہونا ناممکن ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے چند فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں:
مضبوط اور فعال سفارت کاری: تہران اور کابل کے ساتھ محض احتجاجی مراسلوں کے بجائے اعلیٰ سطحی اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جائیں تاکہ سیکیورٹی خدشات کو باہمی تعاون سے حل کیا جا سکے۔
تجارت اور سیاست کو الگ کرنا: سیکیورٹی یا سیاسی تناؤ کی صورت میں تجارتی قافلوں اور عام شہریوں کی آمد و رفت کو یرغمال بنانے کی پالیسی ترک کی جائے۔
بارڈر مارکیٹس کا قیام: ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر جن مشترکہ بارڈر مارکیٹس کا اعلان کیا گیا تھا، انہیں کاغذوں سے نکال کر عملی طور پر فعال کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کو قانونی روزگار مل سکے۔
مشرق سے مغرب تک بند سرحدیں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کی اہمیت کو ختم کر رہی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں معیشت اور عام آدمی کی فلاح کو مرکز نہ بنایا، تو یہ بند دروازے ہمارے اپنے معاشی مستقبل کو مقفل کر دیں گے۔ ریاستوں کی مضبوطی اونچی دیواریں کھڑی کرنے میں نہیں، بلکہ مضبوط معاشی و تجارتی پل بنانے میں ہوتی ہے۔