دہائیوں سے جب بھی پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نام ایک ساتھ خبروں میں آتا تھا، تو کہانی کا رخ پہلے سے طے ہوتا تھا: طویل مذاکرات، سخت مالیاتی اہداف اور بیل آؤٹ قسطیں۔ تاہم، اس ہفتے بنکاک میں ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں میں یہ منظرنامہ بدل گیا ہے۔
1953 کے بعد پہلی بار، پاکستان کو سال 2027 کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کے بورڈز آف گورنرز کا نیا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
12 سے 18 اکتوبر تک بنکاک میں منعقد ہونے والے ان سالانہ اجلاسوں میں 191 ممالک کے 15,000 سے زائد مندوبین شریک ہوئے، جہاں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ—جو ورلڈ بینک میں پاکستان کے گورنر بھی ہیں—کو باضابطہ طور پر اگلے سال اس عالمی فورم کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا۔
74 سال کا طویل انتظار: تاریخی پس منظر
اس لمحے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں بریٹن ووڈز اداروں کے ابتدائی ایام پر نظر ڈالنی ہوگی۔ پاکستان نے آخری بار 1953 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا، جب اس وقت کے وزیر خزانہ محمد علی نے واشنگٹن میں ہونے والے آٹھویں سالانہ اجلاسوں کی صدارت کی تھی۔
چونکہ یہ عہدہ بڑے شیئر ہولڈرز کے لیے مخصوص رہنے کے بجائے رکن ممالک کے درمیان باری باری گھومتا ہے، اس لیے جنوبی ایشیا کے چند ہی ممالک کو اب تک یہ اعزاز حاصل ہوا ہے:
بھارت نے 1950 میں پیرس میں ہونے والے اجلاسوں کی صدارت کی۔
پاکستان نے 1953 میں واشنگٹن میں قیادت سنبھالی۔
سیلون (موجودہ سری لنکا) نے 1968 میں صدارت کے فرائض انجام دیے۔
نیپال نے 1999 میں یہ عہدہ سنبھالا۔
اس اعلان کے بعد، احد خان چیمہ کو ورلڈ بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ذمہ داریوں پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے ادارے کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکرٹری آرادھنا کمار کپور اور پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر اور سبکدوش ہونے والے چیئرمین کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی تاکہ 4 سے 9 اکتوبر 2027 کو واشنگٹن میں ہونے والے اجلاسوں کے لیے رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اعزاز بمقابلہ اختیار: چیئرمین کا اصل کردار کیا ہے؟
جب بھی کوئی قرض لینے والا ملک آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک میں قائدانہ کردار سنبھالتا ہے تو ایک فطری سوال ابھرتا ہے: کیا اس سے پاکستان کو اپنے قرضوں کے معاملات میں کوئی رعایت یا اضافی اختیار ملے گا؟
اس کا مختصر جواب نہیں ہے۔ دونوں اداروں کے قوانین کے تحت یہ عہدہ بنیادی طور پر سفارتی اور کارروائی چلانے کی حد تک ہے، نہ کہ انتظامی۔
چیئرمین کی ذمہ داریاں: سالانہ اجلاسوں کی صدارت کرنا، ان کی کارروائی کی نگرانی کرنا، اور رکن ممالک کے درمیان عالمی معاشی و ترقیاتی امور پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا۔
اختیارات کی حدود: اس عہدے سے پاکستان کو قرضوں کے فیصلوں، شرائط میں نرمی، یا دونوں اداروں کے آپریشنز پر کوئی اضافی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
معاشی حقیقت: قرض پروگرام اور سربراہی ساتھ ساتھ
یہ تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان خود آئی ایم ایف کے پروگراموں میں گہرائی تک شامل ہے۔ اسلام آباد اس وقت دو بڑے مالیاتی پیکجز پر عمل پیرا ہے:
7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت (EFF) پروگرام: جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کو حل کرنا اور معاشی اصلاحات کی حمایت کرنا ہے۔
1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت (RSF): جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے اور مزاحمتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختص ہے۔
حالیہ جائزوں پر آئی ایم ایف اسٹاف اور پاکستانی حکام کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے بعد، ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اضافی قسط ملنے کی توقع ہے۔
عالمی مالیاتی سیاست میں اس علامتی کامیابی کی اہمیت
پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس نے دہائیوں تک آئی ایم ایف کے ساتھ میز کی دوسری جانب قرض لینے والے کی حیثیت سے مذاکرات کیے ہیں، ان اجلاسوں کی صدارت کرنا ایک بڑی علامتی تبدیلی ہے۔
اکتوبر 2027 میں جب واشنگٹن میں دنیا بھر کے وزرائے خزانہ جمع ہوں گے، تو ایک پاکستانی وزیر اس کمرے کے سامنے صدارتی نشست پر موجود ہوگا۔ اسلام آباد کو امید ہے کہ یہ سفارتی کامیابی قرضوں کے بوجھ، کلائمیٹ فنانس (موسمیاتی فنڈنگ) اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالیاتی وسائل جیسے اہم مسائل پر پاکستان کی آواز کو مزید مضبوط بنائے گی۔ محمد اخلاص خان بنوں۔