بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 20 پولیس اہلکار اغوا

مستونگ: 17 اکتوبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے کلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں زیرِ تربیت 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔

حکام کے مطابق اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر گھر جا رہے تھے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک مسافر وین میں سفر کر رہے تھے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ حملہ آور خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے۔

مسلح افراد 20 اہلکاروں کو وین سمیت نامعلوم مقام پر لے گئے، تاہم گاڑی کے ڈرائیور اور دیگر تین مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔

اغوا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن سے ہے اور وہ سابق لیویز فورس کے اہلکار ہیں، جسے بعد ازاں پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مغوی اہلکاروں کی تلاش کے لیے قریبی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی کسی گروپ نے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رخشان ڈویژن کے کمشنر اغوا

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران سے اغوا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

مسلح افراد نے مبینہ طور پر نوشکی خاران شاہراہ پر ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے ڈرائیور کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

اس سے قبل خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو بھی 20 ستمبر کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ وہ تقریباً دو ہفتے تک اغوا کاروں کی تحویل میں رہنے کے بعد 3 اکتوبر کو مقامی قبائلی عمائدین کی کوششوں اور مذاکرات کے نتیجے میں بحفاظت رہا ہو گئے تھے۔

بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سرکاری افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 21 جولائی کو ضلع چاغی میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد تین ایکسائز اہلکاروں کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا۔

حالیہ واقعات نے صوبے میں سرکاری اہلکاروں اور شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔