کسی بھی ماں باپ کے لیے اس سے بڑا قیامت خیز لمحہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ صبح اپنے بچوں کو مسکراتے ہوئے اسکول کا بستہ پہنا کر رخصت کریں، اورکچھ ہی گھنٹوں بعد ہسپتال کے باہر کھڑے ہو کر ان کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے ہوں۔
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کی صبح پشاور کے لیے ایک ایسا ہی ناقابلِ برداشت صدمہ لے کر آئی۔ پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی (آفریدی آباد) میں واقع ایک نجی اسکول کی چھت اس وقت اچانک زمین بوس ہو گئی جب کلاسز میں تدریسی عمل جاری تھا۔ چند ہی لمحوں میں علم اور قہقہوں سے گونجنے والی یہ جگہ ملبے، گرد و غبار اور آہ و بکا کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔
اس المناک حادثے میں 33 معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر موقع پر یا ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے، جبکہ 45 سے زائد طلبہ کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالا گیا۔ آج پورا پاکستان سوگوار ہے اور ہر شہری کے لب پر ایک ہی تلخ سوال ہے: آخر ہم اپنے ہی بچوں کو ان کے کلاس رومز کے اندر محفوظ کیوں نہ رکھ سکے؟
الخیر پبلک اسکول میں اصل میں کیا ہوا؟
یہ دلخراش واقعہ جمعرات کی صبح دیر کالونی کے علاقے آفریدی آباد کی تنگ و تاریک گلیوں میں واقع الخیر پبلک اسکول (Al-Khair Public School) میں پیش آیا۔
عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق، صبح کی اسمبلی ختم ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی اور پہلا پیریڈ شروع ہو چکا تھا۔ درجنوں کم عمر بچے، جن میں سے اکثر کی عمریں 13 سال سے کم تھیں، اپنے ڈیسکوں پر بیٹھے کتابیں کھول رہے تھے کہ اچانک عمارت کی بالائی منزل ایک زوردار دھماکے کی آواز کے ساتھ نیچے آ گری۔ بھاری بھرکم چھت سیدھی گراؤنڈ فلور کے ان کمروں پر گری جہاں چھوٹے بچوں کی کلاسز موجود تھیں۔
چونکہ اسکول ایک انتہائی تنگ رہائشی گلی میں واقع تھا، اس لیے ریسکیو کی بھاری مشینری کو موقع پر پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں علاقے کے مقامی نوجوانوں اور رہائشیوں نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ ریسکیو 1122 اور ایمبولینسز کے پہنچنے سے پہلے ہی اہلِ علاقہ اور بدحواس والدین نے اپنے ننگے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی اینٹیں اور بھاری سلیب ہٹانا شروع کر دیے تاکہ ملبے تلے دبے سسکتے بچوں کو باہر نکالا جا سکے۔
غم کی داستانیں اور معجزات
جائے وقوعہ اور پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کے باہر، جہاں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔ مائیں گرد و غبار سے اٹے ہوئے اسکول بیگ سینے سے لگائے اپنے جگر گوشوں کے نام پکارے جانے کا انتظار کر رہی تھیں۔
اس قیامت خیز ماحول میں کچھ معجزے بھی دیکھنے کو ملے۔ علاقے کے ایک رہائشی سمیع اللہ، جن کے چھ بچے اسی اسکول میں زیرِ تعلیم تھے، بدحواسی کے عالم میں اسکول کی طرف دوڑے کیونکہ ان کا چھوٹا بیٹا اسی گراؤنڈ فلور کی کلاس میں بیٹھتا تھا۔ معجزانہ طور پر ان کا بیٹا چھت گرنے سے محض چند لمحے قبل پانی پینے کے لیے کمرے سے باہر نکلا تھا جس کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ سمیع اللہ نے ہمت نہیں ہاری اور ملبے سے تین دیگر بچیوں کو زندہ نکالنے میں مدد کی۔ لیکن بدقسمتی سے درجنوں دیگر خاندان اتنے خوش نصیب ثابت نہ ہو سکے۔
اسکول کی چھت آخر کیوں گری؟
کیا یہ کوئی قدرتی آفت تھی؟ ہرگز نہیں۔ پشاور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ حادثہ مکمل طور پر انسانی غفلت اور لالچ کا نتیجہ تھا۔
سی سی پی او (CCPO) پشاور میاں سعید اور ریسکیو حکام نے اس حادثے کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں:
کمزور رہائشی عمارت: یہ اسکول کسی باقاعدہ تعلیمی کیمپس کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ ایک پرانے اور چھوٹے سے رہائشی مکان میں چلایا جا رہا تھا جو اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔
غیر قانونی اور بھاری تعمیر: عمارت کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی کمزور تھا، جس کے اوپر بغیر کسی انجینئرنگ نقشے یا مضبوط ستونوں (Pillars) کے اضافی تعمیر کی گئی تھی جس سے چھت پر وزن حد سے زیادہ بڑھ گیا۔
گنجائش سے زیادہ طلبہ: کم آمدنی والے علاقے کی وجہ سے والدین کم فیس میں بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے، اور اسکول انتظامیہ نے چھوٹے سے مکان کے کمروں میں گنجائش سے کہیں زیادہ بچوں کو بٹھا رکھا تھا۔
حکومتی ردِعمل اور پولیس کی کارروائی
ملک بھر میں عوامی غم و غصے کے بعد حکام نے فوری اقدامات اٹھائے ہیں:
اسکول مالک کی گرفتاری: پشاور پولیس نے الخیر پبلک اسکول کے مالک/پرنسپل کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی قائم: ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ تعین کیا جا سکے کہ اتنی خطرناک عمارت میں اسکول چلانے کی اجازت کس نے دی۔
صوبہ بھر میں اسکولوں کے آڈٹ کا حکم: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صوبے بھر کے تمام نجی اور سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے فوری اسٹرکچرل آڈٹ (حفاظتی معائنے) کا حکم دیا ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں: پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ
پشاور کا یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ یہ کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک خوفناک تسلسل بن چکا ہے۔ صرف رواں سال (2026) کے دوران خستہ حال عمارتوں نے کئی تعلیمی اداروں کو مقتل گاہ بنایا ہے:
| تاریخ | مقام | حادثے کی تفصیل |
| 15 اکتوبر 2026 | پشاور، خیبر پختونخوا | دیر کالونی میں الخیر پبلک اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچے اور ایک استانی جاں بحق۔ |
| 11 ستمبر 2026 | کراچی، سندھ | اورنگی ٹاؤن میں خستہ حال سرکاری اسکول کی دیوار گرنے سے 5 افراد جاں بحق۔ |
| 2 جولائی 2026 | لاہور، پنجاب | باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر نجی اسکول کی چھت گرنے سے 1 بچہ جاں بحق، 5 زخمی۔ |
| 30 جون 2026 | لاہور، پنجاب | کاہنہ کے علاقے میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق۔ |
| 7 مئی 2026 | ڈیرہ غازی خان، پنجاب | نجی اسکول میں تعمیراتی کام کے دوران چھت گرنے سے 4 بچے جاں بحق اور 20 زخمی۔ |
پاکستان کے تقریباً ہر متوسط اور کم آمدنی والے محلے میں 3 سے 5 مرلے کے تنگ مکانات کرائے پر لے کر، ان کی دیواروں پر شوخ رنگ پھیر کر راتوں رات "انگلش میڈیم اسکول" کھول لیے جاتے ہیں۔ نہ ان میں ہنگامی اخراج کے راستے (Fire Exits) ہوتے ہیں، نہ بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ، اور نہ ہی محکمہ تعلیم کے افسران کسی بڑے سانحے سے پہلے ان کا معائنہ کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔
اب کیا بدلنے کی ضرورت ہے؟
34 قیمتی جانیں جانے کے بعد صرف ایک اسکول مالک کو جیل میں ڈال دینے سے نہ تو وہ معصوم پھول واپس آئیں گے اور نہ ہی مستقبل میں ایسے حادثات رکیں گے۔ اگر حکومت واقعی دیر کالونی کے شہداء کے ساتھ انصاف کرنا چاہتی ہے تو تین اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہیں:
فٹنس سرٹیفکیٹ کی لازمی شرط: کسی بھی نجی اسکول یا اکیڈمی کو اس وقت تک رجسٹریشن یا تجدید (Renewal) نہ دی جائے جب تک مستند سول انجینئرز اس کی عمارت کو محفوظ قرار نہ دیں۔
رہائشی مکانات میں اضافی منزلوں پر پابندی: تنگ گلیوں کے رہائشی مکانات میں چلنے والے اسکولوں میں غیر منظور شدہ چھتیں یا اضافی منزلیں بنانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
والدین اور اساتذہ کے لیے شکایتی ہیلپ لائن: ضلعی انتظامیہ ایک سادہ واٹس ایپ ہیلپ لائن متعارف کروائے جہاں والدین یا اساتذہ کسی بھی اسکول کی تڑختی ہوئی دیواروں یا کمزور چھت کی تصویر بھیج کر فوری شکایت درج کروا سکیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ کہاں پیش آیا؟
یہ واقعہ 15 اکتوبر 2026 کو پشاور کے علاقے دیر کالونی (آفریدی آباد) میں واقع ایک نجی تعلیمی ادارے 'الخیر پبلک اسکول' میں پیش آیا۔
پشاور اسکول حادثے میں کتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے؟
اس المناک حادثے میں کم از کم 34 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 33 کم عمر طلبہ (جن کی عمریں 13 سال یا اس سے کم تھیں) اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں، جبکہ 45 سے زائد بچے زخمی ہوئے۔
اسکول کی چھت گرنے کی اصل وجہ کیا تھی؟
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق اسکول ایک تنگ اور کمزور رہائشی مکان میں قائم تھا۔ عمارت کے کمزور ڈھانچے پر بھاری چھت اور اضافی تعمیر کا بوجھ ڈالا گیا تھا جسے دیواریں برداشت نہ کر سکیں۔
کیا اسکول انتظامیہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہے؟
جی ہاں، پشاور پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے اور صوبائی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور صوبے بھر کے اسکولوں کے حفاظتی آڈٹ کا حکم دیا ہے۔
دیر کالونی کے ملبے میں بکھرے چھوٹے چھوٹے جوتے اور مٹی میں دبی کاپیاں ہمارے پورے نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔ تعلیم کا مقصد بچوں کا مستقبل سنوارنا ہوتا ہے، ان سے جینے کا حق چھیننا نہیں۔ بحیثیتِ قوم ہم ان 33 معصوم فرشتوں کے مقروض ہیں—اور یہ قرض صرف تعزیتی بیانات سے نہیں بلکہ اپنے بچوں کو محفوظ درسگاہیں فراہم کر کے ہی اتارا جا سکتا ہے۔