حالیہ برسوں میں بحیرہ احمر کے جہازوں پر حملوں اور اسرائیل کی طرف میزائل داغنے کی خبروں نے ایک نام بار بار دنیا کے سامنے رکھا ہے: حوثی۔ مگر حوثی کون ہیں، یہ کہاں سے آئے اور ان کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ اس تحریر میں ہم ان کی تاریخ، نظریے، طاقت اور ان پر لگنے والے الزامات کا متوازن جائزہ لیں گے۔
حوثی تحریک کا تعارف
حوثی، جو سرکاری طور پر انصار اللہ کہلاتے ہیں، یمن سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی اور مسلح تنظیم ہے۔ یہ زیدی شیعہ مسلک کے احیا کی تحریک کے طور پر 1990 کی دہائی میں ابھری۔ اس کا نام بانی حسین الحوثی کے خاندان "الحوثی" سے لیا گیا ہے، اور آج تنظیم کی قیادت زیادہ تر ان کے بھائی عبدالمالک الحوثی کے ہاتھ میں ہے۔
حوثی تحریک کی ابتدا
اس تحریک کی بنیاد 1992 میں شمالی یمن کے صوبے صعدہ میں "الشباب المومن" (Believing Youth) نامی تنظیم سے پڑی۔ اس نے اسکول کلب اور سمر کیمپ قائم کیے تاکہ زیدی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ ابتدا میں اسے ایک اعتدال پسند مذہبی تحریک کے طور پر دیکھا گیا۔
نظریاتی رنگ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد بدلا۔ حسین الحوثی نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے کو تحریک کی پہچان بنایا۔ اس نعرے پر "الصرخہ" کا نام آیا، اور اس میں یہودیوں پر لعنت کے الفاظ بھی شامل ہیں، جس پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت نے حسین الحوثی کی گرفتاری کا حکم دیا، اور 2004 میں فوجی کارروائی میں ان کی ہلاکت کے بعد مسلح بغاوت شروع ہوئی۔ یہ تنازع وقفے وقفے سے 2010 کی جنگ بندی تک چلتا رہا۔
حوثیوں کا نظریہ اور مذہبی بنیاد
حوثی تحریک کا نظریہ مذہبی، قوم پرست اور عوامی نعروں کا ملا جلا مجموعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے دو بڑے ستون ہیں:
- "قرآنی راستہ": قرآن کی روایتی تفسیر کو رد کرنا اور براہِ راست قرآن پر عمل کا دعویٰ۔
- اہلِ بیت کا حقِ حکمرانی: نبیِ کریم ﷺ کی آل کے حکمرانی کے حق پر زور۔
یمن میں زیدی آبادی کا تناسب تقریباً 34 فیصد اور سنی آبادی کا تقریباً 65 فیصد بتایا جاتا ہے۔ حوثیوں نے سنی قبائل کو ساتھ ملایا بھی ہے، مگر ان پر سنی مساجد بند کرنے اور اہم عہدے زیادہ تر زیدیوں کو دینے کے الزامات بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی زیدی علما خود حوثیوں کے مخالف ہیں اور انہیں ایران کے حمایت یافتہ گروہ سمجھتے ہیں۔
یمن کی خانہ جنگی اور حوثیوں کا عروج
حوثیوں نے 2011 کے عرب بہار کے احتجاج میں حصہ لیا۔ پھر 2014 میں ایندھن کی قیمتیں بڑھنے پر عوامی ناراضی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے دارالحکومت صنعاء کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ جنوری 2015 میں انہوں نے صدارتی محل پر قبضہ کیا اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
اس کے جواب میں مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کیں، اور یوں خانہ جنگی نے بین الاقوامی شکل اختیار کر لی۔ اس جنگ میں انسانی بحران شدید ہوا اور قحط کے خطرات پیدا ہوئے۔ ایک دلچسپ موڑ یہ بھی آیا کہ سابق صدر صالح کچھ عرصہ حوثیوں کے اتحادی رہے، مگر 2017 میں اتحاد ٹوٹا اور حوثیوں نے انہیں قتل کر دیا۔
حوثیوں کی فوجی طاقت
حوثیوں نے برسوں میں اپنی عسکری صلاحیت نمایاں طور پر بڑھائی۔ اس میں شامل ہیں:
- بیلسٹک اور کروز میزائل، جن سے انہوں نے سعودی عرب کے اندر ریاض تک اہداف کو نشانہ بنایا۔
- ڈرون اور خودکش ڈرون، جن کا استعمال 2019 کے بعد بہت بڑھ گیا۔
- بحری صلاحیت: جہاز شکن میزائل، بارودی کشتیاں اور بحری بارودی سرنگیں۔
2019 میں سعودی تیل کی تنصیبات (ابقیق اور خریص) پر بڑے حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی، جبکہ امریکہ نے اس کا الزام ایران پر لگایا۔
بحیرہ احمر کے حملے اور غزہ جنگ
غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے اسرائیل کی طرف میزائل داغے اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ فلسطینیوں سے یکجہتی ہے اور غزہ تک امداد پہنچانے کا دباؤ ہے۔ نتیجتاً عالمی تجارت متاثر ہوئی۔
جنوری 2024 میں امریکہ اور برطانیہ نے حوثی اہداف پر فضائی حملے کیے، اور امریکہ نے حوثیوں کو "خصوصی نامزد عالمی دہشت گرد" قرار دیا۔ مارچ 2025 میں امریکہ نے یمن میں ایک بڑی فوجی مہم شروع کی، جس میں پینٹاگون کے اپنے اندازے کے مطابق 153 شہری ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فروری 2026 میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد حوثیوں نے جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
کیا حوثی ایران کے پراکسی ہیں؟
یہ سوال سب سے زیادہ متنازع ہے، اور دونوں مؤقف سامنے رکھنا ضروری ہے۔
ایرانی کردار کے حامی دلائل: اقوامِ متحدہ نے کچھ میزائلوں کے ایرانی ساختہ ہونے کی نشاندہی کی، ایرانی اسلحے کی کھیپیں پکڑی گئیں، اور رپورٹس کے مطابق ایران اور حزب اللہ کے مشیر حوثیوں کو تربیت دیتے ہیں۔
اس کے برعکس مؤقف: کئی محققین کا کہنا ہے کہ حوثی مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے 2015 میں ایران کی مرضی کے خلاف صنعاء پر قبضہ کیا، اور ایران کا اثر "بڑھا چڑھا کر" پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثی ایران کے بعض مذہبی عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں۔
حقیقت غالباً ان دونوں کے درمیان ہے: ایران حوثیوں کا بڑا حمایتی ہے، مگر فیصلے کا اختیار حوثی قیادت کے ہاتھ میں ہی دکھائی دیتا ہے۔
انسانی حقوق کے الزامات
اقوامِ متحدہ کے ماہرین، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر اداروں نے حوثیوں پر سنگین الزامات لگائے ہیں:
- بچوں کی بھرتی: یونیسف کے مطابق یمن میں مسلح گروہوں کے ساتھ لڑنے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
- امداد میں رکاوٹ: عالمی ادارۂ خوراک نے خوراک کی امداد کے غلط استعمال اور رکاوٹوں کی شکایت کی۔
- خواتین پر پابندیاں: محرم کے بغیر سفر پر پابندی اور گرفتار خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹس۔
- اقلیتوں پر دباؤ: بہائی برادری اور یمنی یہودیوں کو ہراساں کرنے کے الزامات، اور ہم جنس تعلقات کے الزام میں سزاؤں کی خبریں۔
حوثی قیادت ان میں سے کئی الزامات کی تردید کرتی ہے۔ دوسری طرف سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملوں میں بھی بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے، اور اس پر بھی عالمی تنقید ہوتی رہی ہے۔
عوامی رائے
2024 میں صنعاء سینٹر کے ایک سروے کے مطابق حوثی کنٹرول والے علاقوں میں صرف 8 فیصد افراد نے تحریک کے بارے میں مثبت رائے دی، جبکہ 20 فیصد نے منفی رائے ظاہر کی۔ حکومتی اور متنازع علاقوں میں منفی رائے کہیں زیادہ، یعنی بالترتیب 34 اور 39 فیصد تھی۔ سروے کے اعداد و شمار کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ جنگ زدہ علاقوں میں کھل کر رائے دینا آسان نہیں ہوتا۔
نتیجہ
حوثی تحریک ایک مقامی مذہبی احیائی گروہ سے بڑھ کر آج علاقائی سیاست کا اہم کھلاڑی بن چکی ہے۔ ایک طرف وہ خود کو بدعنوانی اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا نمائندہ کہتی ہے، دوسری طرف اس پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ یمن کا مسئلہ صرف داخلی جنگ نہیں بلکہ سعودی عرب اور ایران کی علاقائی کشمکش اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے بھی جڑا ہے، اور اسی لیے اس کا حل آسان نہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
حوثی کون ہیں؟ حوثی یا انصار اللہ یمن کی ایک زیدی شیعہ پس منظر رکھنے والی سیاسی و مسلح تحریک ہے جو 1990 کی دہائی میں صعدہ سے ابھری اور 2014 میں صنعاء پر قابض ہوئی۔
حوثی کا نام کہاں سے آیا؟ یہ نام تحریک کے ابتدائی رہنما حسین الحوثی کے خاندانی نام سے لیا گیا ہے۔
حوثی بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے کیوں کرتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک اس سے عالمی تجارت اور عام شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
کیا حوثی ایران کے ساتھ ہیں؟ ایران کی حمایت کے شواہد موجود ہیں، لیکن ماہرین میں اختلاف ہے کہ حوثی کس حد تک ایران کے کنٹرول میں ہیں۔
یمن کا کتنا علاقہ حوثیوں کے پاس ہے؟ حوثی دارالحکومت صنعاء سمیت یمن کے شمالی اور مغربی گنجان آباد حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔