1947: جب لکیر کھینچ کر ایک ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا تو گھرانے اُجڑ گئے اور لاکھوں لوگ اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن گئے۔ پورے برصغیر پر نفرت کے بادل چھائے ہوئے تھے، لیکن اسی خون آشام دور میں محبت کی ایک ایسی داستان نے جنم لیا جسے آج دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی لوگ نم آنکھوں سے یاد کرتے ہیں۔ یہ داستان ہے بوٹا سنگھ اور زینب کی۔
بوٹا سنگھ کون تھا؟
بوٹا سنگھ ہندوستانی پنجاب کے شہر جالندھر کا رہنے والا ایک سکھ سپاہی تھا۔ وہ برطانوی حکومت کی طرف سے دوسری جنگِ عظیم میں برما کے محاذ پر لڑ چکا تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو وہ اپنے گاؤں لوٹ آیا اور سکون کی زندگی گزارنے لگا۔ مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہا۔ کچھ ہی عرصے بعد تقسیم کے فسادات نے پنجاب کے ہر گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ، وحشت اور خوف ہر طرف پھیل چکا تھا۔
زینب کی آمد
انہی ہنگاموں میں ایک مسلمان لڑکی، زینب، ہجرت کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑ گئی۔ جان بچانے کے لیے در بدر ٹھوکریں کھاتی ہوئی وہ بوٹا سنگھ کی دہلیز پر آ پہنچی۔ بوٹا سنگھ اس کا سہارا بنا اور اسے اپنے گھر میں پناہ دے دی۔
لیکن گاؤں والوں کو یہ بات گوارا نہ ہوئی۔ جس وقت لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں آ رہی تھیں، وہ یہ کیسے برداشت کرتے کہ ایک مسلمان لڑکی ان کے گاؤں میں حفاظت سے رہے؟ لوگ بوٹا سنگھ کے خلاف باتیں کرنے لگے۔
مجبوری سے محبت تک
لوگوں کے طعنوں کا منہ بند کرنے کے لیے بوٹا سنگھ اور زینب نے مجبوری میں شادی کر لی۔ شروع میں یہ ایک وقتی فیصلہ تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مجبوری آہستہ آہستہ محبت میں بدلنے لگی۔ دونوں نے اس نئی زندگی کو دل سے اپنا لیا۔ ان کے گھر ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام تنویر رکھا گیا۔
ایک معاہدہ، اور جدائی
اسی دوران پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت فسادات میں اغوا ہونے والی عورتوں کو تلاش کر کے ان کے گھر والوں کے حوالے کیا جانا تھا۔ اس معاہدے کی زد میں زینب بھی آ گئی۔ ہندوستانی پولیس نے اسے ڈھونڈ نکالا، اور بوٹا سنگھ کی منتوں اور قانونی شادی کے باوجود زینب کو زبردستی پاکستان، اس کے خاندان کے پاس بھیج دیا گیا۔
لاہور کا سفر
بوٹا سنگھ بیوی کی جدائی برداشت نہ کر سکا۔ وہ اپنی بیٹی تنویر کو ساتھ لے کر جالندھر سے لاہور آ پہنچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے پر تو خدا بھی مل جاتا ہے، یہ تو پھر زینب تھی۔ وہ زینب کے گاؤں نارپور پہنچ گیا، مگر زینب کے گھر والوں نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
بوٹا سنگھ نے ہار نہیں مانی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام جمیل رکھ لیا، اس امید پر کہ شاید زینب کا خاندان اسے اپنا لے۔ مگر انہوں نے الٹا زینب کی شادی کہیں اور طے کر دی۔
عدالت کا دروازہ، اور ٹوٹا ہوا دل
آخری امید کے طور پر بوٹا سنگھ نے پاکستانی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ شاید وہاں سے انصاف مل جائے۔ مگر عدالت میں زینب نے خاندان کے دباؤ میں آ کر بوٹا سنگھ کے ساتھ ہندوستان جانے سے انکار کر دیا، اور اسے اپنا شوہر ماننے سے بھی منکر ہو گئی۔
جس زینب کی خاطر بوٹا سنگھ نے اپنا وطن چھوڑا، اپنی پہچان سے دستبردار ہوا، یہاں تک کہ اپنا مذہب بدل لیا، اسی زینب نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ یہ بے رخی بوٹا سنگھ کو اندر سے توڑ گئی۔
آخری سفر
انتہائی مایوسی کے عالم میں بوٹا سنگھ نے شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب آتی ہوئی ٹرین کے آگے اپنی بیٹی تنویر کے ساتھ چھلانگ لگا دی۔ بوٹا سنگھ موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ بیٹی معجزانہ طور پر بچ گئی۔
وصیت اور آخری آرام گاہ
بوٹا سنگھ کے پاس سے ایک وصیت ملی، جس میں لکھا تھا کہ اسے زینب کے گاؤں نارپور کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ لیکن زینب کے خاندان والوں نے اس کی اجازت نہ دی۔ آخرکار بوٹا سنگھ کی محبت اور دکھ کے اس سفر کا اختتام لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں ہوا، جہاں اسے اس کی ادھوری محبت اور مایوسی کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ایک داستان جو زندہ رہی
اس واقعے سے متاثر ہو کر ناول لکھے گئے، "شہیدِ محبت"، "ویر زارا" اور "غدر" جیسی فلمیں اور "داستان" جیسے ڈرامے بنائے گئے۔ آج بھی لوگ بوٹا سنگھ کو "شہیدِ محبت" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
بوٹا سنگھ اور زینب کی کہانی صرف دو انسانوں کی کہانی نہیں۔ یہ اس دور کی تصویر ہے جب سرحد کی ایک لکیر نے دلوں کے رشتے کاٹ دیے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تقسیم کے زخم صرف زمین پر نہیں لگے تھے، وہ انسانوں کے دلوں
پر بھی لگے تھے، اور ان میں سے کچھ زخم آج بھی تازہ ہیں۔
تحریر: Faizan Ak Azaad