History

سقوطِ بغداد اور بیت الحکمہ کی تباہی: جب دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا

Read in English
سقوطِ بغداد اور بیت الحکمہ کی تباہی: جب دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا

جب مسلمان اپنے عروج پر تھے تو بغداد دنیا بھر میں علم کے لحاظ سے بالکل ویسے ہی مشہور تھا جیسے آج لوگ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے مغرب (West) کا سفر کرتے ہیں۔ اُس زمانے میں علم کے پیاسے بغداد کا رخ کیا کرتے تھے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز ہوا کرتا تھا، جسے "ہاؤس آف وزڈم" (House of Wisdom) یا بیت الحکمہ کہا جاتا تھا۔ اس عظیم ادارے کی بنیاد عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے رکھی تھی اور بعد میں ان کے بیٹے مامون الرشید نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

یہاں یونانی، ایرانی اور ہندوستانی زبانوں کی نایاب کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا اور یہی بیت الحکمہ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ ادارہ یہ تاریخی کام سرانجام نہ دیتا تو شاید آج دنیا سقراط (Socrates)، ارسطو (Aristotle) اور افلاطون (Plato) جیسے فلاسفروں سے واقف ہی نہ ہوتی، کیونکہ ان کی اصل کتابیں یورپ کی جنگوں اور تاریک دور میں جلا دی گئی تھیں۔

عجیب بات ہے نا! جب پورا یورپ آگ اور جہالت میں جل رہا تھا، تب مسلمان بیت الحکمہ کی عمارتوں میں بیٹھ کر دنیا بھر کی کتابوں کے ترجمے کر رہے تھے، مختلف علمی سوالات اٹھائے جاتے تھے اور تجربات کے ذریعے ان کے جوابات کھوجے جاتے تھے۔ بیت الحکمہ کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس کے دروازے ہر مذہب کے شخص کے لیے کھلے تھے، ایک ہی چھت کے نیچے مسلمان، عیسائی اور یہودی محققین مل کر کائنات کے راز کھوجتے تھے۔

حملے کا پس منظر اور ہلاکو خان کے عزائم

تاریخ کا پہیہ گھوما اور 1253ء میں منگول حکمران مونگکے خان (Möngke Khan) نے اپنے بھائی ہلاکو خان کو ایک بڑی فوج دے کر مشرقِ وسطیٰ کی طرف بھیجا اور دو واضح احکامات دیے: پہلا یہ کہ ایران میں اسماعیلی قلعوں کو مسمار کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ بغداد کے حکمران، 37ویں اور آخری عباسی خلیفہ المستعصم باللہ، کو منگول سلطنت کے سامنے جھکایا جائے، اور اگر وہ نہ مانے تو بغداد کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے۔

ہلاکو خان نے جب ایران پر حملہ کیا تو اس سے پہلے عباسی خلیفہ سے فوج طلب کی تاکہ وہ منگولوں کے ساتھ مل کر لڑے، مگر خلیفہ المستعصم باللہ نے صاف انکار کر دیا۔ ہلاکو خان نے اس انکار کو کھلی بغاوت سمجھا۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ منگول سمجھتے تھے کہ جب تک عباسی خلیفہ بغداد میں بیٹھا ہے، دنیا بھر کے مسلمان کسی بھی وقت اپنے روحانی مرکز کے نام پر منگولوں کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کو زیر کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کے مرکز بغداد اور عباسی خلافت کو ختم کرنا ضروری تھا۔

حملے کے وقت مسلمانوں کی اندرونی حالت

اس وقت مسلمان ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے۔ مصر اور شام میں مملوک اور ایوبی سلطنتیں الگ قائم تھیں، جبکہ عباسی خلیفہ کی حکمرانی صرف بغداد اور آس پاس کے چند علاقوں تک محدود رہ گئی تھی۔ اوپر سے خلیفہ نے شاہی خزانہ بھرنے کی غرض سے فوج کی تعداد میں غیر معمولی کمی کر دی تھی۔ اندازوں کے مطابق اس وقت عباسی سلطنت کے پاس بغداد کے دفاع کے لیے صرف 10 سے 20 ہزار سپاہی موجود تھے۔

اگرچہ عباسی خلیفہ عسکری لحاظ سے کمزور تھے، مگر بغداد پھر بھی علم کا مرکز تھا۔ بیت الحکمہ کے پورے عالم میں چرچے تھے اور دنیا بھر کے اسکالرز یہاں آ کر تحقیق کیا کرتے تھے۔ بیت الحکمہ کے علاوہ بغداد میں مدرسہ مستنصریہ اور نظامیہ یونیورسٹی سمیت 36 بڑی پبلک لائبریریاں موجود تھیں، جہاں 500 سال کی محنت سے جمع کیے گئے لاکھوں نایاب قلمی نسخے (Handwritten Manuscripts) رکھے ہوئے تھے۔

خطوط کی جنگ اور 13 دن کا خونی محاصرہ (جنوری تا فروری 1258ء)

1257ء کے اواخر میں حملہ شروع کرنے سے پہلے ہلاکو خان نے ایران کے شہر ہمدان سے خلیفہ المستعصم کو ایک دھمکی آمیز خط بھیجا:

"اپنے شہر کی دیواریں گرا دو، خندقیں بھر دو، اور خود چل کر میرے دربار میں حاضر ہو جاؤ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جب میں بپھرے ہوئے طوفان کی طرح بغداد پر چڑھائی کروں گا تو تمہیں آسمان یا زمین میں کہیں پناہ نہیں ملے گی!"

خلیفہ المستعصم ابھی تک اس خوش فہمی میں تھا کہ بغداد ناقابلِ تسخیر ہے۔ اس نے ہلاکو کو جواب لکھا: "نادان نوجوان! کیا تم نہیں جانتے کہ مشرق سے مغرب تک تمام مسلمان میرے غلام ہیں؟ اگر میں ایک اشارہ کروں تو پوری دنیا تم پر ٹوٹ پڑے گی۔" مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ خلیفہ نے نہ آس پاس کے مسلم حکمرانوں سے مدد مانگی اور نہ ہی بغداد کی دیواروں کی مرمت کروائی۔

جنوری 1258ء میں ہلاکو خان ڈیڑھ لاکھ (1,50,000) کی طاقتور فوج لے کر بغداد کی طرف بڑھا۔ اس فوج میں منگولوں کے علاوہ جارجیا اور آرمینیا کے عیسائی دستے اور ایک ہزار چینی منجنیق و بارود کے ماہرین (Catapult & Gunpowder Experts) بھی شامل تھے۔ ہلاکو نے دریائے دجلہ کے دونوں کناروں سے گھیرا ڈالا۔ 17 جنوری 1258ء کو خلیفہ نے اپنے کمانڈر سلیمان شاہ اور ایبک کی قیادت میں 20 ہزار سپاہی منگولوں کو روکنے بھیجے، مگر منگول کمانڈر بائجو (Baiju) نے رات کے وقت دریائے فرات کی نہروں کے بند توڑ دیے۔ عباسی فوج کے کیمپ میں اچانک سیلاب آ گیا، ہزاروں سپاہی پانی میں ڈوب گئے اور باقی کو منگولوں نے کاٹ ڈالا۔

29 جنوری 1258ء کو ہلاکو خان کی فوج نے بغداد کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ منگولوں نے صرف ایک دن اور ایک رات میں بغداد کے گرد لکڑی کی ایک بڑی باڑ اور گہری خندق کھود دی تاکہ شہر سے کوئی ایک شخص بھی باہر نہ بھاگ سکے۔ 30 جنوری سے 4 فروری تک چینی انجینئروں نے شہر کی کمزور دیوار اور "عجمی برج" پر منجنیقوں سے بھاری پتھروں اور آگ کے گولوں (Naphtha) کی بارش شروع کر دی۔ جب بڑے پتھر ختم ہو گئے تو منگولوں نے کھجور کے درخت کاٹ کر اور باہر والی عمارتوں کی اینٹیں اکھاڑ کر گولہ باری جاری رکھی، یہاں تک کہ 5 فروری کو عجمی برج ٹوٹ گیا اور منگول سپاہی دیوار کے اوپر چڑھ گئے۔

صلح کی کوشش، دھوکہ اور "7 دن کی قیامت"

دیوار ٹوٹنے پر خلیفہ گھبرا گیا اور اپنے وزیر ابن العلقمی کو تحفے دے کر صلح کے لیے بھیجا، مگر ہلاکو نے شرط رکھی کہ پہلے خلیفہ اپنے تینوں بیٹوں، وزیر اور تمام فوجی کمانڈروں سمیت ہتھیار ڈال کر باہر آئے۔ جب بغداد کے 3,000 اعلیٰ حکام، قاضی اور کمانڈر امن کی امید میں باہر آئے تو ہلاکو نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ان سب کو وہیں قتل کروا دیا۔

جب کوئی راستہ نہ بچا تو 10 فروری 1258ء کو خلیفہ المستعصم نے ہتھیار ڈال دیے۔ ہلاکو نے خلیفہ کے ذریعے شہر کے لوگوں کو حکم دلوایا کہ اپنے ہتھیار پھینک کر شہر سے باہر میدان میں جمع ہو جائیں تاکہ ان کی گنتی کی جا سکے۔ بغداد کے نہتے شہری جیسے ہی میدان میں نکلے، منگول سپاہیوں نے ان سب کو گھیر کر تہہ تیغ کر دیا۔

13 فروری سے 20 فروری تک ہلاکو خان نے اپنی فوج کو بغداد میں 7 دن تک کھلی لوٹ مار اور قتلِ عام کی اجازت دے دی۔ لوگ مساجد، مدارس اور تہہ خانوں میں چھپ گئے تھے، لیکن دروازے توڑ کر سب کو باہر نکالا گیا۔ مؤرخ عبداللہ وصاف لکھتے ہیں کہ "گلیوں میں خون اس طرح بہہ رہا تھا جیسے بارش کے بعد نالیوں میں پانی بہتا ہے۔"

اسی ہفتے کے دوران بیت الحکمہ اور تمام 36 لائبریریوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ منگول سپاہیوں نے کتابوں کے چمڑے کے غلاف (Leather Bindings) پھاڑ کر اپنے جوتے بنا لیے اور باقی لاکھوں کتابیں دریائے دجلہ میں پھینک دیں، جس سے دریا کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا اور علماء کے خون سے سرخ ہو گیا۔ (صرف مشہور عالم نصیر الدین طوسی نے ہلاکو سے اجازت لے کر مراغہ رصدگاہ کے لیے کچھ لاکھ کتابیں بچا لی تھیں، ورنہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا)۔

20 فروری 1258ء کو خلیفہ المستعصم کو ایک موٹے قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں کے نیچے کچل دیا گیا تاکہ منگول عقیدے کے مطابق شاہی خون زمین پر نہ گرے۔ 21 فروری کو شہر میں لاشوں کی بدبو اور وبا پھیلنے کے خطرے کے باعث ہلاکو خان نے اپنا کیمپ بغداد سے باہر منتقل کر لیا۔

حملے کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا اور ہم نے کیا کھویا؟

بغداد کے گرنے پر پوری اسلامی دنیا میں سناٹا چھا گیا کیونکہ 500 سال میں پہلی بار دنیا خلیفہ کے بغیر تھی۔ لیکن صرف دو سال کے اندر دو بڑے واقعات ہوئے:

جنگِ عین جالوت (1260ء): ہلاکو خان کی فوج جب شام کو روندتی ہوئی مصر کی طرف بڑھی تو مصر کے مملوک حکمران سلطان سیف الدین قطز اور کمانڈر رکن الدین بیبرس نے ڈرنے کے بجائے فلسطین کے مقام "عین جالوت" پر منگولوں کا مقابلہ کیا۔ تاریخ میں پہلی بار منگول فوج کو کھلی شکست ہوئی اور ہلاکو کا کمانڈر کتبغا مارا گیا۔

برکہ خان کا انتقام: چنگیز خان کا پوتا اور ہلاکو کا چچا زاد بھائی برکہ خان (جو مسلمان ہو چکا تھا) بغداد کی تباہی پر تڑپ اٹھا اور بولا کہ "ہلاکو نے مسلمانوں کے شہر تباہ کیے اور خلیفہ کو بغیر مشورے کے قتل کیا، میں اس خون کا حساب لوں گا!" برکہ خان نے مملوکوں کے ساتھ مل کر ہلاکو خان کے خلاف جنگ چھیڑ دی، جس کی وجہ سے ہلاکو کبھی مکہ، مدینہ یا مصر کی طرف دوبارہ رخ نہ کر سکا۔

مؤرخین کے نزدیک 1258ء کا سال "اسلام کے سنہری دور" (Islamic Golden Age) کے اختتام کا نشان ہے۔ اگر یہ حملہ نہ ہوتا تو مسلمانوں نے ایسا کیا کھویا جو وہ نہ کھوتے؟

500 سال کی سائنسی تحقیق کا ضیاع: اس زمانے میں پرنٹنگ پریس نہیں ہوتا تھا؛ ایک کتاب کی صرف ایک یا دو ہاتھ سے لکھی ہوئی کاپیاں ہوتی تھیں۔ بیت الحکمہ کے تباہ ہونے سے فلکیات، طب، ریاضی، کیمسٹری اور تاریخ کی 90 فیصد سے زیادہ کتابیں ہمیشہ کے لیے ناپید ہو گئیں۔

سائنسی انقلاب (Scientific Revolution): الخوارزمی، ابن الہیثم اور البیرونی نے جس سائنسی طریقۂ کار کی بنیاد رکھی تھی، اگر بغداد سلامت رہتا تو جو صنعتی اور سائنسی انقلاب 18ویں صدی میں یورپ میں آیا، وہ شاید 300 سال پہلے مسلم دنیا میں آ چکا ہوتا۔

تحقیق کی جگہ "تحفظ" کی سوچ: اس صدمے کے بعد مسلم اسکالرز کا رجحان نئی ایجادات (Innovation) سے ہٹ کر بچے کھچے علم کو محفوظ کرنے (Preservation) پر چلا گیا، اور خوف کی فضا نے عام سوچ کو تجربات سے دور کر دیا۔

تاریخی مآخذ و حوالہ جات

  1. Ibn Kathir - Al-Bidaya wa'l-Nihaya (The Beginning and the End), Vol. 13: Account of the Year 656 AH (1258 CE).
    Reference URL: archive.org/details/AlBidayaWalNihayaIbnKathir
  2. Rashid al-Din Hamadani - Jami' al-Tawarikh (Compendium of Chronicles): History of the Mongols and Hulagu Khan's Campaign.
    Reference URL: britannica.com/topic/Jami-al-tawarikh
  3. Jim Al-Khalili - The House of Wisdom: How Arabic Science Saved Ancient Knowledge and Gave Us the Renaissance.
    Reference URL: worldhistory.org/House_of_Wisdom/
  4. Encyclopaedia Britannica - Siege of Baghdad (1258) & The Fall of the Abbasid Caliphate.
    Reference URL: britannica.com/event/Siege-of-Baghdad
  5. Firas Alkhateeb - Lost Islamic History: Reclaiming Muslim Civilisation from the Past.
    Reference URL: archive.org/details/LostIslamicHistory