تصور کریں ایک ایسے گھر کا جہاں دسترخوان بچھتے ہی درجنوں معصوم ہاتھ روٹی کے نوالوں کی طرف بڑھتے ہیں، لیکن اکثر اوقات کھانا کم پڑ جانے کی وجہ سے کئی بچوں کو بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی افسانوی منظر نہیں، بلکہ افغانستان کے وسطی صوبے اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ (علاقہ خیرو کاریز) میں رہنے والے 57 سالہ محمد صادق کے گھر کی روزمرہ حقیقت ہے۔
حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی (BBC) نے، اپنے پروگرام "بی بی سی گلوبل ویمن" کے تحت، محمد صادق کی زندگی پر ایک تفصیلی دستاویزی رپورٹ جاری کی ہے، جس نے دنیا بھر میں غربت، کثیر الاولادی اور کم عمری کی شادیوں جیسے سنگین موضوعات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
72 بچوں کی پیدائش اور 14 معصوم جانوں کا ضیاع
محمد صادق کی کل چار بیویاں ہیں جن سے ان کے ہاں مجموعی طور پر 72 بچے پیدا ہوئے۔ تاہم، اروزگان جیسے پسماندہ علاقے میں بنیادی طبی سہولیات کے فقدان، غذائی قلت اور شدید غربت کے باعث ان کے 14 بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس وقت ان کے زندہ بچوں کی تعداد 58 ہے (مئی 2024 میں یہ تعداد 52 تھی، جس میں گزشتہ دو سالوں کے دوران مزید 6 بچوں کا اضافہ ہوا ہے)۔
اپنے اس دیوہیکل خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد صادق بتاتے ہیں کہ ان کا اتنی زیادہ اولاد پیدا کرنے کا بنیادی مقصد "امتِ محمدی کی تعداد میں اضافہ کرنا" تھا۔ تاہم، وسائل کے بغیر اتنے بڑے کنبے کی کفالت اب ان کے لیے ایک ایسا بوجھ بن چکی ہے جسے اٹھانا ان کے بس سے باہر ہو گیا ہے۔
جب باپ کو اپنے ہی بچوں کے نام بھول جائیں!
کسی بھی باپ کے لیے اس کے بچے اس کی پہچان ہوتے ہیں، لیکن جب بچوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کر جائے تو انسانی یادداشت بھی جواب دے جاتی ہے۔ محمد صادق کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے:
- بے نام پکار: وہ اپنے تمام 58 بچوں کے نام یاد رکھنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے جب بھی انہیں کسی بچے کو بلانا ہوتا ہے تو وہ صرف "میرے بیٹے" یا "میری بچی" کہہ کر پکارتے ہیں۔
- نکاح کے وقت عجیب غلطی: بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ اپنی ایک بیٹی کے نکاح کے موقع پر وہ اس کا اصل نام بھول گئے اور نکاح خواں (مولوی) کو غلطی سے اپنی دوسری بیٹی کا نام لکھوا دیا۔
- کھانے پر حاضری: گھر میں کھانے کے وقت بچوں کو باقاعدہ گنا جاتا ہے۔ اکثر گنتی کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایک آدھ بچہ کم ہے، اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ وہ کسی رشتہ دار یا ہمسائے کے ہاں رکا ہوا ہے۔
ایک ہزار افغانی کی آمدن اور کچرے سے ایندھن چننے والے بچے
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو 63 افراد (میاں، چار بیویاں اور 58 بچے) پر مشتمل اس خاندان کا گزر بسر کسی معجزے سے کم نہیں۔ محمد صادق ایک مقامی کار ڈیلرشپ (گاڑیوں کے شوروم) میں بطور کمیشن ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ جب کوئی گاڑی فروخت ہوتی ہے تو انہیں محض 1,000 افغانی (تقریباً 15 امریکی ڈالر) بطور کمیشن ملتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ گاڑی روزانہ فروخت نہیں ہوتی، اور یہ معمولی رقم اتنے بڑے خاندان کے ایک وقت کے راشن کے لیے بھی ناکافی ہے۔
گھر کا چولہا جلانے کے لیے ان کے چند بڑے بیٹے مزدوری کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے معصوم بچے، جن کی عمر اسکول جانے اور کھیلنے کودنے کی ہے، سردی سے بچنے اور آگ جلانے کے لیے گلیوں اور کچرے کے ڈھیروں سے کاغذ اور پلاسٹک چن کر لاتے ہیں۔
بغیر دروازوں کا گھر اور ایک کمبل میں سات افراد
بی بی سی کی رپورٹ اس خاندان کے رہائشی حالات کی جو تصویر کشی کرتی ہے وہ دل دہلا دینے والی ہے:
- دروازوں کی جگہ پردے: یہ خاندان جس کچے مکان میں رہتا ہے، اس کے کمروں میں لکڑی یا لوہے کے روایتی دروازے اور کھڑکیاں تک موجود نہیں ہیں۔ کمروں کے دہانوں پر صرف پتلے کپڑے کے پردے لٹکا کر سردی اور گرمی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
- مشترکہ اور غیر محفوظ غسل خانہ: پورے گھر میں نہانے، کپڑے دھونے، برتن مانجھنے اور بعض اوقات رفع حاجت (بیت الخلا) کے لیے ایک ہی چھوٹی اور غیر محفوظ جگہ استعمال ہوتی ہے۔
- سونے کا انتظام: سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں کمبل اور بستر پورے نہیں پڑتے، جس کی وجہ سے چھ سے سات افراد ایک ہی پتلے کمبل کے نیچے سمٹ کر سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔
- دو وقت کا کھانا: گھر میں دن میں صرف دو بار (ناشتے اور رات کے کھانے کے وقت) چولہا جلتا ہے، اور کھانا پکانے کی ذمہ داری دو بیویوں پر ہوتی ہے۔ گرمیوں میں تمام افراد صحن میں، جبکہ سردیوں میں کمروں کے اندر مل کر کھاتے ہیں۔
کم عمری کی شادیاں اور ماؤں کی صحت پر منڈلاتے خطرات
اس کہانی کا ایک اور انتہائی حساس پہلو خواتین کے حقوق اور ان کی صحت سے جڑا ہے۔ محمد صادق نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے پہلی شادی 20 سال کی عمر میں کی تھی، اور اس کے بعد ہر اگلی شادی کے لیے 'ولور' (حق مہر/شادی کی رقم) جمع کرنے کے لیے کچھ وقت لیا۔ لیکن ان کی چاروں بیویوں کی عمریں شادی کے وقت محض 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔
طبی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اتنی کم عمری میں شادی اور پھر بغیر کسی وقفے کے مسلسل حمل (مجموعی طور پر چار خواتین کے 72 بار حاملہ ہونے کا عمل) ماؤں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اروزگان جیسے دور دراز علاقوں میں جہاں زچہ و بچہ کے مراکز اور لیڈی ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے، وہاں ایسی صورتحال ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کے 14 بچے پروان چڑھنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
مستقبل کی امید: "بس روٹی اور تعلیم مل جائے"
خود ناخواندہ ہونے کے باوجود، محمد صادق کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب آج بھی زندہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اسکول جائیں اور پڑھ لکھ کر اس غربت کے چکر سے نکلیں (ان کی ایک کمسن بیٹی نے مقامی میڈیا کے سامنے ڈاکٹر بننے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا)، لیکن کاپیوں، کتابوں اور اسکول کے اخراجات ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
محمد صادق نے مقامی حکومت، بین الاقوامی فلاحی اداروں اور صاحبِ ثروت تاجروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔ ان کی زندگی کی اب صرف دو ہی بڑی خواہشات باقی ہیں: ان کے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے، اور وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔
یہ کہانی صرف ایک فرد یا ایک خاندان کی بپتا نہیں، بلکہ جنگ زدہ اور معاشی بحران کے شکار افغانستان کے ان لاکھوں خاندانوں کا آئینہ ہے جہاں جہالت، غربت اور وسائل کی کمی آنے والی نسلوں کا مستقبل نگل رہی ہے۔