لاہور میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ شہر کتنا پرانا ہے، تو ہر کوئی مختلف جواب دے گا۔ کوئی کہے گا کہ شہر کا نام ہندو دیوتا رام کے بیٹے کے نام پر رکھا گیا، تو کوئی ایک یونانی جغرافیہ دان کا حوالہ دے گا جس نے تقریباً دو ہزار سال پہلے اس علاقے کا نقشہ بنایا تھا۔ سچ یہ ہے کہ لاہور کی اصل عمر کسی کو یقین سے معلوم نہیں، اور یہی اسرار اس شہر کی کہانی کو اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔
لاہور واقعی کتنا پرانا ہے؟
لاہور کی سب سے پرانی کہانی تاریخ نہیں بلکہ ایک روایت ہے۔ مقامی روایت کے مطابق شہر کی بنیاد لاوا نے رکھی، جو ہندو دیوتا رام کا بیٹا تھا، اور آج بھی لاہور قلعے کے اندر ایک چھوٹا، خالی مندر اسی کے نام سے منسوب ہے۔ چاہے اس روایت کو لفظی طور پر مانا جائے یا نہ مانا جائے، یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے کے لوگ صدیوں سے لاہور کو ایک قدیم شہر سمجھتے آئے ہیں۔
پہلا ٹھوس تحریری حوالہ بہت بعد میں ملتا ہے۔ یونانی مصری عالم بطلیموس نے اپنی مشہور جغرافیائی کتاب میں اس علاقے کے ایک شہر کا ذکر کیا، جو راوی، چناب اور جہلم کے قریب واقع تھا۔ لیکن لاہور کو تفصیل سے بیان کرنے والی پہلی دستاویز 982ء کی ایک گمنام فارسی جغرافیائی تحریر ہے، جس میں ایک فصیل دار چھوٹے شہر کا ذکر ہے جہاں مصروف بازار اور باغات تھے — یعنی اس وقت لاہور ایک تجارتی مرکز تھا، وہ عظیم شہر نہیں جو بعد میں بنا۔
اسلام سے پہلے کا لاہور
غزنویوں یا مغلوں سے بہت پہلے یہ خطہ کئی حکمرانوں کے ہاتھوں سے گزرا، جن میں ہند-یونانی بادشاہ، کشان، گپتا اور مقامی ہندو خاندان شامل تھے۔ اس دور کی تقریباً کوئی تعمیر باقی نہیں بچی۔ مورخین اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں: ایک تو اس علاقے میں اچھے تعمیراتی پتھر کی کمی، اور دوسرا یہ کہ اس زمانے کے شمالی ہند کے حکمران مستقل پتھر کی تعمیرات نہیں کرتے تھے جیسا کہ کچھ جنوبی خاندان کرتے تھے۔ اس دور کی کہانیاں باقی ہیں، مگر عمارتیں نہیں۔
غزنوی فتح جس نے سب کچھ بدل دیا
975ء کے لگ بھگ صورتحال یکسر بدل گئی، جب غزنی کے حکمران سبکتگین نے اس علاقے کی طرف پیش قدمی کی اور مقامی ہندو راجہ جے پال سے ٹکراؤ ہوا۔ یہ لڑائی برسوں جاری رہی، اور آخرکار سبکتگین کے زیادہ مشہور بیٹے محمود غزنوی نے 1022ء میں لاہور پر مکمل قبضہ کر کے اسے لوٹ لیا۔
جو بات زیادہ تر لوگوں کو حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ شہر کو دوبارہ کس نے بسایا۔ محمود نے اپنے معتمد گورنر ملک ایاز کو لاہور کا انتظام سونپا، اور اسی کی قیادت میں شہر نہ صرف بحال ہوا بلکہ شاعری اور علم کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ 1163ء تک لاہور مکمل طور پر غزنوی سلطنت کا دارالحکومت بن چکا تھا۔ ملک ایاز کا مقبرہ آج بھی رنگ محل کے علاقے میں موجود ہے۔
دہلی سلطنت کی حکومت اور منگول تباہی
غزنویوں کے زوال کے بعد لاہور دہلی سلطنت کے مختلف مسلم خاندانوں کے زیرِ حکومت رہا، جن میں مملوک، خلجی، تغلق اور بعد میں لودھی شامل تھے۔ 1206ء میں قطب الدین ایبک کی یہیں تاج پوشی ہوئی، جس سے وہ جنوبی ایشیا کے پہلے مسلمان سلطان بنے اور لاہور کو برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم مقام ملا۔
یہ دور انتہائی سفاک تھا۔ تیرہویں صدی میں منگول افواج نے لاہور پر بار بار حملے کیے، اور 1241ء میں ایک منگول لشکر نے شہر کا بڑا حصہ تباہ کر کے اس کی آبادی کا قتلِ عام کیا۔ وہ دوبارہ 1297، 1298 اور 1305ء میں بھی آئے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں مغل دور سے پہلے کی تقریباً کوئی عمارت باقی نہیں — ان حملوں کے بعد کچھ زیادہ بچا ہی نہیں تھا۔ 1398ء میں جب تیمور یہاں سے گزرا تو شہر اتنا تباہ حال تھا کہ اس نے لوٹ مار کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔
مغلیہ دورِ زریں
اگر کوئی ایک دور لاہور کی موجودہ شکل کا تعین کرتا ہے تو وہ یہی ہے۔ 1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں بابر کی فتح کے بعد یہ علاقہ مغل سلطنت کا حصہ بنا، اور بالآخر لاہور ایک مکمل مغل دارالحکومت بنا — اکبر اور جہانگیر کے دور میں، تقریباً 1584 سے 1598ء تک، سلطنت کا نظام یہیں سے چلایا جاتا رہا۔
یہی وہ دور ہے جب شہر کو اس کی اصل پہچان ملی۔ لاہور قلعے کو بڑے پیمانے پر وسعت دی گئی۔ جہانگیر، جو شہر سے اتنی محبت کرتا تھا کہ یہیں دفن ہونا چاہا، نے مزید اضافے کیے۔ اس کے بیٹے شاہ جہاں نے شالیمار باغ بنوایا، اور شاہ جہاں کے بیٹے اورنگزیب نے بادشاہی مسجد اور عالمگیری دروازہ مکمل کروایا — یہ دونوں آج بھی پاکستان کی سب سے نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لاہور کی خوبصورتی کی شہرت اتنی پھیلی ہوئی تھی کہ انگریز شاعر جان ملٹن نے 1670ء میں اپنی تحریر میں اس شہر کا ذکر کیا، حالانکہ وہ کبھی یہاں آیا بھی نہیں تھا۔
بدامنی، فتوحات اور سکھ سلطنت
کوئی سلطنت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، اور اٹھارہویں صدی میں لاہور پر مغل کنٹرول کمزور پڑنے لگا۔ افغان حکمران احمد شاہ ابدالی نے بار بار شہر پر قبضہ کیا، مرہٹوں نے 1758ء میں مختصر عرصے کے لیے اسے سنبھالا، اور ایک عرصے تک جو بھی لشکر طاقتور ہوتا وہی لاہور پر قابض ہو جاتا — روایت کے مطابق 1740 اور 1750 کی دہائی میں صرف گیارہ برسوں میں شہر کے نو مختلف گورنر بدلے۔
اسی بدامنی سے رنجیت سنگھ ابھرا، جس نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کیا اور 1801ء میں یہیں مہاراجہ کا تاج پہنا، مختلف سکھ مسلوں کو ایک سلطنت میں یکجا کرتے ہوئے لاہور کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ اگلے چالیس سال تک یہ شہر پنجاب میں سکھ طاقت کا مرکز رہا، یہاں تک کہ 1839ء میں رنجیت سنگھ کی وفات نے جانشینی کا بحران پیدا کر دیا، جس سے انگریزوں نے فوری فائدہ اٹھایا۔
انگریزی دور اور جدید لاہور کی تشکیل
برطانوی فوج نے 1846ء میں لاہور میں قدم رکھا اور سکھوں کے ساتھ دوسری جنگ کے بعد 1849ء میں پنجاب کو باقاعدہ طور پر اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ استعماری دور کے بارے میں رائے کچھ بھی ہو، اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اس دور نے شہر کی شکل بدل دی۔ گورنمنٹ کالج، ہائی کورٹ اور جنرل پوسٹ آفس اسی دور کی تعمیرات ہیں، جن میں مغل، گوتھک اور وکٹورین طرزِ تعمیر کا امتزاج آج بھی نمایاں ہے۔
اس دور میں ایک نام خاص طور پر یاد رکھنے والا ہے — سر گنگا رام، جنہیں اکثر "جدید لاہور کا باپ" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے شہر کی کئی اہم عمارتیں ڈیزائن اور تعمیر کیں، جن میں جی پی او، لاہور میوزیم، ایچیسن کالج اور گنگا رام ہسپتال شامل ہیں — ایک ایسا نقش جو شاید کسی مغل بادشاہ سے کم پائیدار نہیں۔
پاکستان کی تخلیق میں لاہور کا کردار
یہیں سے لاہور محض ایک پرانا شہر نہیں رہتا بلکہ ایک قوم کی شناخت کا مرکز بن جاتا ہے۔ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سب سے اہم اجلاس لاہور میں ہوا، جہاں محمد علی جناح نے پہلی بار برملا طور پر مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا۔ یہیں منظور کی گئی قرارداد کی یادگار کے طور پر آج مینارِ پاکستان موجود ہے۔ لاہور کی مرکزی جیل میں تحریکِ آزادی کے کئی قیدی بھی رکھے گئے، جن میں بھگت سنگھ بھی شامل تھے، جن کی پھانسی برصغیر کی مشترکہ تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔
1947 کے بعد لاہور: تین حصوں میں بٹا شہر
1947ء کی آزادی خوشی کے ساتھ ساتھ حقیقی سانحات بھی لائی، جب فسادات میں شہر کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا، اس سے پہلے کہ حالات سنبھل سکیں۔ کچھ عرصے کے لیے کراچی پاکستان کا بڑا اقتصادی مرکز بن گیا، مگر 1990 کی دہائی سے لاہور نے اپنی ثقافتی اور اقتصادی اہمیت دوبارہ حاصل کر لی۔
آج جو لوگ اس شہر کو قریب سے جانتے ہیں وہ اسے تین حصوں میں بٹا ہوا بتاتے ہیں: پرانا فصیل بند شہر اپنے تاریخی دروازوں کے ساتھ، جو آج بھی سب سے زیادہ گنجان اور روایتی حصہ ہے؛ نہر کی طرف پھیلا ہوا نوآبادیاتی دور کا شہر؛ اور آزادی کے بعد بننے والا نیا لاہور، جیسے گلبرگ، ڈیفنس، بحریہ ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن۔ فصیل بند شہر 2009ء سے ایک بڑے تحفظاتی منصوبے کا مرکز بھی رہا ہے، جسے پنجاب حکومت اور عالمی بینک کی معاونت حاصل ہے۔
لاہور کی تاریخ ایک نظر میں
| دور | تقریباً عرصہ | نمایاں خصوصیت |
|---|---|---|
| قدیم اور ہندو دور | دسویں صدی سے پہلے | روایتی بنیاد، ابتدائی مقامی حکومتیں، کم عمارتیں باقی |
| غزنوی دور | 975ء–1186ء | محمود غزنوی کی فتح، ملک ایاز کی قیادت میں بحالی |
| دہلی سلطنت اور منگول حملے | 1206ء–1398ء | بار بار منگول تباہی، قدیم فن تعمیر کا تقریباً خاتمہ |
| مغلیہ دور | 1524ء–1752ء | لاہور قلعہ، بادشاہی مسجد، شالیمار باغ |
| سکھ سلطنت | 1799ء–1849ء | مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دارالحکومت |
| برطانوی دور | 1849ء–1947ء | نوآبادیاتی ادارے، سر گنگا رام کی تعمیرات |
| آزادی کے بعد کا دور | 1947ء–تاحال | تحریکِ پاکستان، جدید تین حصوں پر مشتمل شہر کی ترقی |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا لاہور اسلام آباد سے پرانا ہے؟
جی ہاں، کافی حد تک۔ اسلام آباد خاص طور پر 1960 کی دہائی میں پاکستان کے دارالحکومت کے طور پر تعمیر کیا گیا، جبکہ لاہور کی تحریری تاریخ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے، اور روایتی طور پر اسے اس سے بھی قدیم مانا جاتا ہے۔
مغل دور سے پہلے کی عمارتیں لاہور میں کیوں نہیں ملتیں؟
اس کی بنیادی وجہ تیرہویں اور چودہویں صدی کے بار بار منگول حملے ہیں، ساتھ ہی یہ حقیقت بھی کہ اس دور کے حکمران اس خطے میں مستقل پتھر کی تعمیرات کم ہی کرتے تھے۔
بادشاہی مسجد کس نے تعمیر کروائی؟
مغل بادشاہ اورنگزیب نے، جس نے اسے تقریباً 1673ء میں لاہور قلعے کے عالمگیری دروازے کے ساتھ مکمل کروایا۔
کیا لاہور کبھی کسی سلطنت کا دارالحکومت رہا ہے؟
جی ہاں، ایک سے زیادہ بار۔ یہ غزنوی سلطنت کا دارالحکومت رہا، اکبر اور جہانگیر کے دور میں مغل دارالحکومت بنا، اور رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت کا بھی دارالحکومت رہا۔
فصیل بند شہر (والڈ سٹی) کیا ہے؟
یہ شہر کا سب سے پرانا باقی ماندہ حصہ ہے، جسے مقامی طور پر "اندرون شہر" کہا جاتا ہے، جہاں لاہور کی قبل از نوآبادیاتی دور کی زیادہ تر عمارات موجود ہیں، اور جو آج بھی ایک جاری تحفظاتی منصوبے کا مرکز ہے۔
لاہور کی کہانی دراصل تباہی اور دوبارہ تعمیر کی کہانی ہے، جو ایک ہزار سال میں بار بار دہرائی گئی۔ اس خطے میں شاید ہی کوئی اور شہر ہو جو اتنی بار مسمار ہونے کے باوجود دوبارہ ایک ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرا ہو۔ اگر آج آپ فصیل بند شہر میں چہل قدمی کریں تو دراصل آپ اسی پوری تاریخ کی تہہ در تہہ باقیات میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔